shahid khqan 85

آئین کی بات کرنا بغاوت ہے تو یہ بغاوت روز کریں گے.شاہدخاقان عباسی

اسلام آباد مسلم لیگ( ن) کے راہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگر آئین کی بات کرنا بغاوت ہے تو یہ بغاوت ہر روز ہو گی. سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وفاقی دارالحکومت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سیاسی تاریخ میں ایک اور بدنما باب کا اضافہ ہو گیا آج تہجد کے وقت ہمارے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور مقدمہ درج کرنے والے بدر رشید نامی شخص کا کوئی عہدہ نہیں ہے.
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف قائم کردہ مقدمے میں سابق وزیر خزانہ، سابق گورنر اور 16 سے زائد سابقہ وزرا کو نامزد کیا گیا جس میں ایس ایچ او تھانہ شاہدرہ نے بہترین انداز میں مقدمہ لکھا.
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جو گزشتہ ادوار میں حکمران رہے ہیں وہ آج غدار ہو گئے اگر آئین کی بات کرنا بغاوت ہے تو ہر روز یہ بغاوت ہو گی اگر بے روزگاری، معیشت اور سی پیک کی بندش پر بات کرنا بغاوت ہے تو یہ بغاوت ہرروز ہو گی.

انہوں نے کہا کہ سیاسی مقابلہ کرنا ہے تو سیاسی میدان میں آوَ، تحریک ابھی شروع ہی نہیں ہوئی کہ بغاوت بغاوت کہنا شروع ہو گئے حکومتوں کی پہچان کارکردگی سے ہوتی ہے انہوں نے کیا کیا ہے ؟. انہوں نے کہا کہ ہمت ہے تو ہتھکڑی لگاﺅلیکن یہ ہتھکنڈے نہیں چلیں گے، جب کچھ نہیں رہ جائے تو پھر بغاوت کا الزام لگایا جاتا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عثمان بزدارمعصوم آدمی ہیں آپ اس معاملے میں نہ پڑیں کہیں کل آپ کونقصان نہ ہو جائے.
واضح رہے کہ آج وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئر(ر) اعجاز شاہ کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی تحریک کو ریاست مخالف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت کے نام پر ملک دشمن ریلیاں نکالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اعجاز شاہ نے کہا کہ نواز شریف مجرم ہیں وہ بیماری کا بہانہ بنا کر بیرون ملک فرار ہوئے سابق وزیراعظم بیرون ملک بیٹھ کر ریاست مخالف پروپیگنڈہ کو فروغ دے رہے ہیں.
ان کا کہنا تھا کہ دو سال بعد الیکشن کی شفافیت پر سوال کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟ الیکشن میں دھاندلی کے خلاف اپوزیشن کو متعلقہ فورم میں جانا چاہیے‘گزشتہ روز انہوں نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے 3 بار ملک کے وزیر اعظم رہنے والا شخص بیماری کا بہانہ بنا کر بیرون ملک بھاگ گیا سابق وزیراعظم نوازشریف کے جہازمیں بیٹھے ہی تھے کہ ان کی بیماری ٹھیک ہو گئی.
وزیر داخلہ نے کہا کہ انصاف کے بغیر قومیں اور ملک ترقی نہیں کرتے لیکن قیام پاکستان کے بعد ہی ملک میں مخالف سازشیں شروع ہوگئیں ماضی میں مقبوضہ کشمیر سازش کے تحت بھارت کو دیا گیا تھا تاہم ملک کے خلاف اب بھی سازشیں جاری ہیں. خیال رہے کہ اپوزیشن نے حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے جس کے پہلے مرحلے میں جلسے اور ریلیاں نکالی جائیں گی اعجاز شاہ کا بیان ایک ایسے موقع پر آیا ہے جب نون لیگ اپنے جلسوں کا شیڈول جاری کر چکی ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے بھی کراچی میں ریلی نکالی ہے‘گزشتہ روز ہی نون لیگ نے اپنے جلسوں کا شیڈول بھی جاری کیا تھا نون لیگ کے زیر اہتمام 15 اکتوبرکو راولپنڈی، 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ اور 26 اکتوبر کو مظفر گڑھ میں جلسے منعقد کیے جائیں گے جبکہ 2 نومبر کو سرگودھا، 6 نومبرفیصل آباد، 10 نومبرساہیوال، 23 نومبرملتان اور30 نومبر کو بہاولپور میں جلسہ ہوگا.
دوسری جانب آج پیر کے روز لاہور کے شاہدرہ تھانے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا ہے مقدمے میں مسلم لیگ( ن) کے دیگر راہنماﺅں کے نام بھی شامل ہیں نواز شریف کے خلاف مقدمہ شہری بدررشید کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس کے متن کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف نے تقریر میں عوام کو اکسایا اور نواز شریف نے تقاریر میں بھارت کی ڈکلیئر پالیسی کی تائید کی مقدمے میں مسلم لیگ( ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، خرم دستگیر، احسن اقبال، شیخ آفتاب، پرویز رشید اور راجہ ظفر الحق ‘خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، امیر مقام، ذکیہ شاہ، طلال چوہدری اور دیگر رہنما بھی نامزد کیے گئے ہیں.
سابق وزیراعظم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر راہنماﺅں کے خلاف درج ایف آئی آر میں 120 اے اور بی 121 اے اور بی ، 123 اے اور بی ، 124 اے اور بی و دیگر دفعات لگائی گئی ہیں ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے لندن میں بیٹھ کر سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کے مقتدر اداروں کو بدنام کرنے کے لئے اشتعال انگیز تقاریر کیں ان کی تقاریر کا مقصد پاکستان کو روگ ریاست قرار دلانا ہے.
ادھراسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی تقاریر پر پابندی کی درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے درخواست پر سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی، درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ نواز شریف نے اپنی 20 ستمبر کی تقریر میں ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی. چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اس سے درخواست گزار کا کون سا بنیادی حقوق متاثر ہوا ہے، سیکورٹی ادارے موجود ہیں اس ملک میں ایک پارلیمنٹ بھی موجود ہے ، عدالت کو سیاسی نوعیت کے معاملات میں کیوں ملوث کرنا چاہتے ہیں؟.
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پیمرا کا کوئی قانون موجود ہے؟ جب پیمرا نے نوٹس بھیج رکھا ہے تو آپ یہاں کیوں آگئے عدالت نے نواز شریف کی تقاریر پر پابندی کے لیے دائر درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا‘واضح رہے کہ گزشتہ روز نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف بھی گوجرانوالہ میں بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں