Army 29

آرمینیا کیخلاف جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے فوج بھیجنے کے الزامات بے بنیاد ہیں

اسلام آباد آذربائیجان کے ملٹری اتاشی کرنل مہمان نوروز کا اہم بیان، کہتے ہیں آرمینیا کیخلاف جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے فوج بھیجنے کے الزامات بے بنیاد ہیں، ترکی اور پاکستان نے حمایت ضرور کی لیکن اس جنگ میں دونوں ممالک کا کوئی عملی کردار نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جاری جنگ ہر گزرتے دن کیساتھ مزید شدت اختیار کرنے لگی ہے۔
اس دوران مسلسل مار کھانے والے آرمینیا نے الزام عائد کیا کہ جنگ میں پاکستان اور ترکی آذربائیجان کو عسکری مدد فراہم کر رہے ہیں، تاہم اب آذربائیجان نے اس کی تردید کر دی ہے۔ آذربائیجان نے واضح کیا ہے کہ آرمینا کیخلاف جنگ میں پاکستان اور ترکی نے کوئی عملی کردار ادا نہیں کیا۔
اس حوالے سے آذربائیجان کے ملٹری اتاشی کرنل مہمان نوروز کا کہنا ہے کہ ترکی اور پاکستان آذربائیجان کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، تاہم آرمینیا نے پروپیگنڈا کیا کہ 30 ہزار پاکستانی فوجی اور ترک فضائیہ کے اہلکار جنگ میں شامل ہوئے۔

ایسے تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اب تک ہونے والی جھڑپوں میں آزربائیجان کو واضح برتری حاصل ہے۔ آذری فوج نگورنو کاراباخ کے کئی علاقوں کو آزاد کروا چکی ہے۔ آزاد کروائے گئے علاقوں میں اسٹریٹیجک نوعیت کے علاقے بھی شامل ہیں۔ جبکہ آذربائیجان کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اب تک آرمینیا کے 2 ہزار سے زائد فوجی غیر فعال، 130 ٹینکس، بکتر بند گاڑیاں، 200 سے زائد بھاری ہتھیار اور میزائل سسٹم تباہ کیے جا چکے۔
جبکہ آرمینیائی فوج نے بھی آذربائیجان کی شہری آبادی پر میزائل داغے ہیں جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری جاں بحق ہوئے۔ واضح رہے کہ نگورنو کاراباخ آذربائیجان کا علاقہ ہے جس پر آرمینیا نے مقامی قبائل کیساتھ مل کر 90 کی دہائی میں قبضہ کر لیا تھا۔ نگورنو کاراباخ کے کنٹرول کے حصول کیلئے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان گزشتہ 3 دہائیوں کے درمیان کئی خونریز جنگیں ہو چکی ہیں۔
جبکہ اب دوبارہ سے شروع ہونے والی جنگ کو کئی برس کے دوران چھڑنے والی سب سے زیادہ شدت والی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس جنگ کے دوران دہائیوں بعد پہلی مرتبہ آذربائیجان کی فوج نگورنو کاراباخ کے کچھ مقبوضہ علاقوں کو آزاد کروانے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ جبکہ آذربائیجان نے جنگ بندی کے مطالبات پر واضح کیا ہے کہ یہ جنگ تب تک جاری رہے گی جب تک نگورنو کاراباخ کو آزاد نہیں کروا لیتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں