160

آصف اور نوازشریف کے درمیان تحریک عدم اعتماد پر اختلاف سامنے آگئے

آصف اور نوازشریف کے درمیان تحریک عدم اعتماد پر اختلاف سامنے آگئے
آصف زرداری چاہتے ہیں کہ پی ڈی ایم صرف جلسے جلوس نہ کرے بلکہ پنجاب اور بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد بھی لائی جائے، صوبوں میں حکومتیں جانے کے بعد وفاقی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔سینئر تجزیہ کار حامد میر

لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 20 نومبر2020ء) سابق صدر آصف اور سابق وزیر اعظم نوازشریف کے درمیان تحریک عدم اعتماد پر اختلاف سامنے آگیا ہے، سینئر تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ آصف زرداری چاہتے ہیں کہ صرف جلسے جلوس نہیں بلکہ پنجاب اور بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے، صوبوں میں حکومتیں جانے کے بعدوفاقی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔
انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں اپنے تجریے میں کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک کے حوالے سے نوازشریف اور آصف زرداری میں کچھ چیزو ں اختلاف ہے ۔آصف زرداری کوشش کررہے تھے کہ صرف جلسے جلوس نہیں بلکہ پنجاب اور بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے، دونوں صوبوں میں حکومت جانے سے پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کمزور ہوجائے گی۔

جب وفاق کمزور ہو جائے تو پھر مرکز میں بھی تحریک عدم اعتماد لائی جائے، جنوری 2021ء میں عمران خان کو نکالنے کا واحد آئینی راستہ تحریک عدم اعتماد ہے۔

لیکن جو لوگ عمران خان کو لے کر آئے ہیں ، وہ نیوٹرل نہیں ہوں گے، وہ ان کو اتنی آسانی سے جانے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ میاں نوازشریف لاہور یا پشاور کے جلسے میں مزید خطرناک باتیں کریں گے، کچھ ایسی باتیں کریں گے جس سے ریاستی ادارے کے نظم وضبط پر زد پڑ سکتی ہے، میں پچھلے 30 سال سے ان کو جانتا ہوں، وہ بڑی جمع تفریق کرکے گیم کرتے ہیں، ان کو پتا ہے کوئی مجھے پاکستان کی حکومت کے حوالے نہیں کرے گا۔
اسی طرح 2014ء میں عمران خان کے دھرنے کا ہم حوالہ دیتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوا، لیکن عمران خان تو دھرنے میں کھڑے ہوکر ایمپائر کا نام لیتے تھے، کسی جرنیل اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام نہیں لیتا تھا، لیکن اپوزیشن تو اس کے برعکس کررہی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں حالات مزید کشیدہ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں پنڈی میں مذہبی جماعت کا ایک جلوس تھا، اس جلوس کو کسی میڈیا نے نہیں دکھایا، ان پر ہزاروں آنسو گیس کے شیل بھی چلائے گئے لیکن جلوس کے شرکاء ٹس سے مس نہیں ہوئے، آپ ان کی تعداد 14ہزار کہیں جتنی مرضی کہیں، لیکن ان کو بھگایا نہیں جاسکا، حکومت نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا، ان کے لوگوں کو رہا کیا، بات یہ ہے کہ مذہبی جلوس کو نہیں روکا جاسکا، اگر پی ڈی ایم کی تحریک میں ایک لاکھ یا پچاس ہزار لوگ اسلام آباد چلے گئے تو حکومت کے پاس کیا حکمت عملی ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں