41

’’ارطغرل غازی‘‘ کی مقبولیت، پاکستان نے ترکی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

ترکی کے مشہور ڈرامے “ارطغرل غازی” پاکستان میں اس قدر مقبول ہوا کہ اس نے کامیابی میں ترکی جہاں یہ ڈرامہ تیار کیا گیا تھا کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ترک خبر رساں ادارے کے مطابق پہلی رمضان سے روزانہ نشر کیے جانے والے ڈرامے “ارطغرل غازی” نے ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور روزانہ ہی نیا ریکارڈ بن کر سامنے آتا ہے۔”ارطغیوٹیوسوشلمیڈیا پر مداح ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل کے یوٹیوب چینل پر کم دنوں میں سب سے زیادہ سسکرائبرز کے ریکارڈ کو بنانے کے لیے پرجوش دکھائی دے رہے ہیں۔ارطغرل غازی کے ترکی ریڈیو اور ٹیلی ویژن ٹی آر ٹی پر ڈرامے کی پہلی قسط کو 5 سالوں میں 1 کروڑ 20 لاکھ بار دیکھا گیا جب کہ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو ارطغرل غازی کے پاکستانی یوٹیوب چینل پر ڈرامے کی پہلی قسط کو صرف دو ہفتوں میں ہی ایک کروڑ 13 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ سال ایک تقریب سے خطاب کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ تاریخی ترک ڈرامہ ” ارطغرل غازی” کو اردو زبان میں ڈب کرکے پاکستان میں نشر کیاجائے تاکہ ہمارے لوگوں کو مسلمانوں کی تاریخ کا پتہ چلے۔ترک صدر رجب طیب اردوان بھی اس سیٹ کا دورہ کرچکے ہیں، انہیں بھی یہ ڈرامہ سیریل بے حد پسند ہے۔وزیراعظم عمران خان کی خواہش کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اسلامی تاریخ پر مبنی شہرہ آفاق ترک سیریز ” ار طغرل غازی” کو اردو زبان میں ڈب کر کے “ارطغرل غازی”کے نام سے رمضان میں سرکاری ٹی پر نشرکیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔یاد رہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے بانی اور اس کے پہلے حکمران سلطان عثمان غازی کے والد کا نام’ ارطغرل غازی‘ تھا۔ ارطغرل غازی بہادر، نڈر، جنگجو شخص تھے۔ جو اپنے قبیلے کا دفاع کرنا خوب جانتے تھے، ان ہی کی فتوحات کے باعث سلطنتِ عثمانیہ کا قیام ممکن ہوا تھا۔ترک سیریز ’ارطغرل غازی‘ ان ہی کی کہانی ہے۔ اس ڈرامے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اسی تاریخ کا دوسرا حصہ بھی ریلیز کیا جا چکا ہے، جس میں عثمان (ارطغرل کے بیٹے) کی زندگی کا احاطہ کیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق Soğut کے علاقے (جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ارطغرل کو سلجوق سلطان سے ملا تھا) میں ارطغرل کے نام کی ایک چھوٹی سی مسجد اور ایک مزار ہے جس کے بارے میں کہا جاتا کہ وہ ارطغرل کے بیٹے نے ان کے لیے بنائی اور پھر جس میں عثمان کے بیٹے اورحان نے اضافہ کیا۔اس مسجد اور مزار پر اتنی بار کام ہوا ہے کہ اس کی پہلی تعمیر سے کوئی نشانی نہیں بچی ، اصلیت وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ مسجد سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں ار طغرل کے نام پر تعمیر کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں