161

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا تین صفحات پر مشتمل حکم نامے میں سابق وزیر اعظم کو العزیزیہ اسٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں مفرور اور اشتہاری قرار دیا گیا ہے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا
تین صفحات پر مشتمل حکم نامے میں سابق وزیر اعظم کو العزیزیہ اسٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں مفرور اور اشتہاری قرار دیا گیا ہے

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا 3 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے.سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں مفرور اور اشتہاری قرار دیا گیا ہے، دونوں ریفرنسز کے الگ الگ تحریری حکم نامے جاری کیے گئے ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے، پھر اشتہار دیا لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے، نواز شریف کیخلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 87 کی کارروائی مکمل ہوگئی ہے اور انہیں مسلسل عدم حاضری پر اشتہاری مجرم قرار دیا گیا ہے.

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ نوازشریف کے ضامنوں کو شوکاز نوٹس جاری کر رہے ہیں نواز شریف کے ضامنوں کے خلاف مزید قانونی کارروائی نہ کی جائے عدالت نے کہا کہ ضامنوں راجہ رب نواز عباسی اور سخی محمد کی ضمانتی رقم ضبط کرنے کی کارروائی کا شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا ہے، دونوں ضامن 9 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں عدالت کے سامنے پیش ہوں. واضح رہے کہ 2 دسمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے مچلکے ضبط کرنے اور ضامنوں کو طلبی کے نوٹس جاری کیئے تھے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بینچ نے کی.
نیب پراسیکیوشن نے نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز پر سزا کیخلاف اپیلیں مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی اپیلیں میرٹ پر مسترد کر دی جانی چاہئیں جس پرجسٹس عامرفاروق نے کہا تھاکہ آج نہیں لیکن آئندہ سماعت پر آپ عدالت کی معاونت کریں، آئندہ سماعت پر عدالتی نظیریں پیش کریں کہ اشتہاری ملزم کی اپیل کا کیا کیا جانا چاہیے جس پرنیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ عدالت کے سامنے سرینڈر نہ کرنے پر نواز شریف کو الگ سے سزا ہو سکتی ہے جسٹس عامر فاروق کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ اگر اس میں سزا ہو سکتی ہے تو اپیلوں میں بھی میرٹ پر فیصلہ ہو سکتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں