56

افغان پناہ گزینوں کی واپسی تک انتہاپسندی روکنے کی ضمانت دینا ممکن نہیں. عمران خان

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک میں افغان پناہ گزینوں کے موجود ہوتے ہوئے پاکستان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ یہاں سے ہونے والی انتہاپسندی روکنے کی ضمانت دے سکے۔

پیر کو اسلام آباد میں افغان پناہ گزینوں سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک افغان سرحد کے ساتھ باڑ لگا رہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی جب تک پناہ گزین واپس نہیں چلے جاتے انتہاپسندی کے مکمل خاتمے کی ضمانت دینا ممکن نہیں۔

اس کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد بھی موجود تھے۔عمران خان نے کہا کہ ’27 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں کہ ہم یہاں سے ہونے والی انتہاپسندی کو روک سکیں لیکن ہم باڑ لگا رہے ہیں جو تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود بھی ان کی واپسی تک ضمانت دینا ممکن نہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان قابل ستائش تعلقات رہے ہیں جس میں پاکستان نے لاکھوں افغان پناہ گزین کو یہاں جگہ دی ہے، باوجود اس کے کہ پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے معاشی بحران کا شکار رہا ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ مختلف اداروں کے لیے دنیا بھر میں خیرات جمع کرنے کے دوران انھیں اس بات کا اندازہ ہوا تھا کہ ’فراخ دل ہونے کا تعلق بینک بیلنس سے نہیں ہوتا۔‘

’مجھے اس بات پر فخر ہے کہ ہم نے کس طرح افغان پناہ گزینوں کا خیال رکھا ہے۔ سنہ 1947 میں اپنے قیام کے وقت پاکستان بھی تارکین وطن کی آمد سے مشکلات سے دوچار تھا۔۔۔ میری والدہ کا خاندان بھی انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ایک اچھے لیڈر کی نشانی بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ تمام تر لوگوں کے بارے میں سوچتا ہے ’تاہم یہ افسوس ناک ہے کہ جب ہم امیر ممالک کی طرف دیکھتے ہیں تو حالات ایسے نہیں ہیں۔ سیاسی رہنماؤں نے تارکین وطن کا مسئلہ اٹھا کر انسانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کیا ہے تاکہ ووٹ حاصل کر سکیں اور تارکینِ وطن سے نفرت کو فروغ دیا جائے۔‘

’ممکن ہے شدت پسند پاکستان میں رہے ہوں گے‘
ان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد اسلام کو شدت پسندی کا مذہب کہا گیا جس سے اسلاموفوبیا بڑھا، لوگ ان دونوں میں فرق نہ کر سکے۔

’دنیا میں پاکستان تارکین وطن کے معاملے میں دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔۔۔ نائن الیون کے بعد ممکن ہے کہ کچھ شدت پسند جو افغانستان میں لڑ رہے تھے پاکستان آ کر رہے ہوں گے۔ یہاں پانچ لاکھ لوگوں کے لیے پناہ گاہیں ہیں۔ حکومت کیسے ان لاکھوں لوگوں میں کچھ ہزار شدت پسند کو پکڑ سکتی ہے جو ان کے بیچ رہ رہے ہوں۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’افغانستان میں امن کی بحالی اس لیے ضروری ہے تاکہ افغان پناہ گزین واپس جا سکیں۔ اس کے بعد اگر کوئی شدت پسند یہاں سے کام کرتا ہے تو ہم اس کی ذمہ داری قبول کر سکیں گے۔‘

’یہ ہمارے فائدے میں نہیں کہ افغانستان میں حالات مزید خراب رہیں۔ ہم وہاں انسانی بنیادوں پر امن چاہتے ہیں۔ پاکستان کے قیام سے قبل بھی انڈیا کے اس خطے کے افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں۔‘

عمران خان نے یہ باتیں کانفرنس میں افغانستان کے نائب صدر سرور دانش کے خطاب میں کی گئی باتوں کے جواب میں کیں۔ افغان نائب صدر نے کہا تھا کہ ان پناہ گزینوں کو ‘افغان مخالف کارروائیوں’ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

انھوں نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ کچھ افغان مخالف دھڑے پاکستان میں قائم ان پناہ گزین کیمپوں سے اپنے جنگجو بھرتی کرتے ہیں۔’پناہ گزینوں کے بچوں نے پاکستان میں کرکٹ سیکھی‘
وزیراعظم عمران خان نے بتایا ’شدت پسندی کے خلاف جنگ کے دوران دونوں طرف کے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ وہاں شدید غربت ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی سے ہم لوگوں کو روزگار دے سکتے ہیں۔‘

’دنیا کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جب (افغان) پناہ گزینوں نے اپنی زندگی عزت سے گزاری جبکہ (پاکستان کے) لوگوں نے معاشی مشکلات کے باوجود ان کی میزبانی کی۔افغان پناہ گزینوں کے بچوں نے یہاں کرکٹ دیکھنا اور کھیلنا شروع کی اور آج افغانستان کی اپنی قومی کرکٹ ٹیم ہے۔ ’شرمناک بات یہ ہے کہ ان کی انڈر 19 ٹیم نے پاکستانی ٹیم کو ہرایا۔‘

عمران خان کی اس بات پر تالیوں کی گونج کے بعد انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا ’میں امید کرتا ہوں کہ ان کی قومی ٹیم ہماری ٹیم کو نہ ہرا سکے۔‘

اس کے ساتھ انھوں نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’انڈیا کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ 11 دنوں میں پاکستان کو تباہ کر سکتے ہیں۔ کیا ایک ارب سے زیادہ کی آبادی والے ملک کا سربراہ ایسے بیان دے سکتا ہے۔‘

انھوں نے اقوام متحدہ کو متنبہ کیا کہ یہ تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے اور حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔

عمران خان سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اپنے خطاب میں پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک نے اپنی مالی مشکلات کے باوجود افغان پناہ گزینوں کو جگہ دی جو ’دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔‘

’ہم نے اس حوالے سے پاکستان کی مدد کی ہے تاکہ وہ صحت اور تعلیم میں اپنے مسائل کا خاتمہ کر سکے۔‘

انتونیو گوتیرس نے تسلیم کیا کہ پاکستان کے اپنے اقدامات کے مقابلے دنیا کی طرف سے پاکستان کی اتنی مدد نہیں کی گئی۔ ’عالمی برادری کو چاہیے کہ مزید اقدامات کریں۔‘

’ہم نفرت کے ان 40 برسوں پر افسوس ظاہر کرتے ہیں۔۔۔ تمام مسائل کا حل افغانستان کے اندر ہی موجود ہے۔ مجھے امید ہے کہ امن کا راستے سے یہاں کے لوگوں کا مستقبل بہتر ہو سکے گا۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں