36

اللہ کی شان، مدینہ منورہ کی پہاڑی کان سے 3ہزار سال بعد بھی سونا ختم نہ ہو سکا ماہرین کے مطابق یہ کان حضرت سلیمان کے دور کی ہے جس سے ہزاروں ٹن سونا، چاندی اور دیگر معدنیات نکالی جا چکی ہیں

اللہ کی شان، مدینہ منورہ کی پہاڑی کان سے 3ہزار سال بعد بھی سونا ختم نہ ہو سکا
ماہرین کے مطابق یہ کان حضرت سلیمان کے دور کی ہے جس سے ہزاروں ٹن سونا، چاندی اور دیگر معدنیات نکالی جا چکی ہیں

یہ ساری کائنات اللہ کی ذات کے مظاہر سے بھری پڑی ہے۔ اللہ کی شان ہے کہ ہر لمحے ہر منظر بدل کر نئے منظر میں بدل جاتا ہے۔ رب نے انسان کو دُنیا پر بھیجا تواسی زمین میں اس کے لیے خزانے بھی پوشیدہ کر دیئے ہیں۔ ایسا ہی ایک قدیم ترین خزانہ سعودی عرب میں موجود ہے۔ اُردو نیوز کے مطابق مدینہ منورہ کے پہاڑی علاقے میں تین ہزار سال پُرانی ایک کان موجود ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کان حضرت سلیمان کے دور کی ہے یعنی تقریباً 950 قبل مسیح کی ہے۔
مدینہ ریجن کے علاقے ’مھد الذھب‘ میں سونے کی 3 ہزار برس قدیم کان سے ا?ج بھی سونا نکالا جاتا ہے۔ وزیر صنعت و معدنی وسائل نے سعودی عرب میں قائم سب سے قدیم اور بڑی سونے کی فیکٹری جو کان سے سونا نکالنے کے امور کی نگران ہے کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں کان کنی کے مختلف مراحل کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم ترین سونے کی کان حضرت سلیمان (تقریبا ’950 قبل از مسیح) کے دور کی ہے جس سے مختلف ادوار میں سونا نکالا جاتا تھا تاہم آج بھی مذکورہ کان سے سونا نکالا جاتا ہے۔

سعودی عرب کے سابق فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز کے عہد میں مذکورہ کان کی توسیع کی گئی اور سال 1983 سے 2020 تک 5 ہزار 989 ملین ٹن خام معدنیات نکالی گئیں جن میں 2.5 ملین اونس خالص سونا اور 9.8 ملین اونس چاندی بھی شامل تھی۔سعودی کان کنی کی کمپنی میں اس وقت 262 افراد کام کرتے ہیں جن میں 63 فیصد سعودی ملازمین شامل ہیں۔ وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر بن ابراھیم الخریف نے مدینہ منورہ ریجن میں قدیم ترین سونے کی کان کا دورہ کیا اور وہاں موجود عملے سے ملاقات کی۔ وزیر معدنی وسائل نے کان کی توسیع منصوبے کا بھی جائزہ لیا۔ وزیر معدنیات نے کان میں رکھے گئے نوادرات بھی دیکھے اور انہیں سونا نکالنے کے مراحل کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں