Yousaf raza 91

الیکشن کمیشن نے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کی استدعا مسترد کر دی

یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دینے کی درخواستیں 22 مارچ کو سماعت کیلئے مقرر، فریقین کو نوٹسز جاری کردیے گئے ، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا

الیکشن کمیشن نے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کی استدعا ..

اسلام آباد الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا ، فیصلے میں پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹی فکیشن روکنے کی پی ٹی آئی کی ایک اور درخواست مسترد کردی گئی ، تاہم پیپلزپارٹی کے رہنما سابق وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کی درخواست 22 مارچ کو سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے وڈیو میں موجود افراد کودرخواست میں لازمی فریق بنانے کی ہدایت کردی ، یوسف رضا گیلانی ، علی حیدر گیلانی اور دیگر فریقین کو نوٹسز بھی جاری کردیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی اور علی حیدر گیلانی ویڈیو اسکینڈل پر سماعت الیکشن کمیشن میں ہوئی ، اس موقع پر الیکشن کمیشن میں درخواست گزار عالیہ حمزہ کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ٹربیونل میں کئی کئی سال کیسز چلتے ہیں لیکن فیصلہ نہیں ہوتا ، مریم نواز اور امیدوار کے بیٹے کا اعترافی بیان قوم نے سنا ہے۔

اس پر الیکشن کمیشن مین پنجاب سے رکن الطاف ابراہیم قریشی نے ریمارکس دیے کہ خفیہ رائے دہی انتخابات کا حسن ہے اور ووٹر کی مرضی جیسے چاہے ووٹ دے ، 2018 میں ویڈیو اسکینڈل آیا تھا جس میں بتایا گیا پیسہ چلا ہے اور الیکشن کمیشن نے از خود نوٹس لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں ویڈیو لوگوں کے پاس تھی لیکن سامنے اب آئی ، برائی کو جڑ سے ختم کریں پیسہ لینے والوں کا بتائیں ، کیوں کہ ہم چاہتے ہیں الیکشن میں پیسے کا استعمال ختم ہو ، جس کے لیے آپ لوگ تمام کرداروں کو سامنے لائیں ، جب کہ حالیہ الیکشن ویڈیوز میں صرف باتیں ہیں۔
تحریک انصاف کے اراکین کے وکیل نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں شفافیت نہیں تھی ، جس کے حوالے سے تحریک انصاف نے ویڈیوز میں موجود اراکین کے بیان حلفی جمع کرائے تو الطاف ابراہیم قریشی نے بیان حلفی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بیان حلفی کے ساتھ شناختی کارڈز نہیں ہیں اور بیان حلفی پر اوتھ کمشنر کی مہر بھی نہیں ہے۔ رکن الیکشن کمیشن پنجاب نے کہا کہ ویڈیو اسٹنگ آپریشن لگتا ہے ، ایوان کے اراکین غلط شخص سے کیوں ملے اور منع کیوں نہیں کیا ؟ ویڈیو میں دونوں اطراف سے باتیں اور دلچسپی دکھائی دے رہی ہے ، آپ لوگ انہیں سامنے لائیں تاکہ کرپشن پریکٹس کا خاتمہ ہو۔

الیکشن کمیشن دلائل دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماء بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ رشوت کی آفر دینے والا علی حیدر گیلانی رکن پنجاب اسمبلی ہے اور اراکین ایک دوسرے سے ملتے رہتے ہیں، الیکشن کمیشن میں صوبہ خیبرپختونخوا کے رکن ارشاد قیصر نے ریمارکس دیے کہ ان ویڈیوز کو بطور مستند ثبوت نہیں لے سکتے ، جو لوگ ویڈیو بنا رہے ہیں انہیں بلائیں رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنم میں جائیں گے اور اللہ پاک سب کو رشوت جیسی لعنت سے دور رکھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں