67

امریکا: تقریباً سات عشرے میں کسی خاتون کو سزائے موت

امریکا: تقریباً سات عشرے میں کسی خاتون کو سزائے موت

لیزا مونٹگومیری کو بدھ کے روز انڈیانا میں ٹیرے ہوٹ جیل کمپلکس میں مہلک انجیکشن لگا کرموت کی سزا دی گئی۔ سزائے موت دینے کے کٹر حامی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سترہ برس بعد گزشتہ جولائی میں سزائے موت پرعمل درآمد بحال کیے جانے کے بعد لیزا مونٹگومیری مہلک انجیکشن دے کر سزائے موت پانے والی گیارہویں قیدی تھیں۔

مونٹگومیری کی وکیل کیلی ہینری نے ایک بیان میں کہا،”ایک ناکام انتظامیہ کی خون کی پیاس کا گھٹیا مظاہرہ آج پوری طرح نمایاں تھا۔ لیزا مونٹگومیری کی سزائے موت میں شامل ہر شخص کو شرمندگی محسوس کرنی چاہیے”۔ ہینری نے مزید کہا،”لیزا مونٹگومیری کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔”

سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت پر مہر لگانے سے قبل زبردست قانونی سرگرمیاں دیکھنے کو ملیں۔

مونٹگومیری ان تین افراد میں سے پہلی ہے جن کی سزائے موت پر بیس جنوری کو نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری سے قبل عمل درآمد کیا جانا ہے۔ جو بائیڈن کی طرف سے سزائے موت کے قانون کو معطل کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
کینساس سے تعلق رکھنے والی باون سالہ لیزا مونٹگومیری نے میسوری کی ایک حاملہ خاتون تیئس سالہ بابی اسٹینیٹ کو2004 میں گلا گھونٹ کر مار ڈالا تھا۔

اس نے آٹھ ماہ کی حاملہ اسٹینیٹ کو قتل کرنے کے لیے رسی کا استعمال کیا تھا اس کے بعد اس کے رحم مادر کو ایک چاقو سے کاٹ کر پیٹ سے بچی کو نکال لیا تھا۔ مونٹگو میری بچی کو اپنے ساتھ لے گئی اور اسے اپنی بیٹی ثابت کرنے کی کوشش کی۔
منگل کے روز ایک اپیلی عدالت نے مونٹگومیری کی سزائے موت پر روک لگا دی تھی۔ اس سے کچھ دیر قبل انڈیانا کی ایک دوسری اپیلی عدالت نے کہا تھا کہ وہ ذہنی مریضہ ہے اور اسے موت کی سزا نہیں دی جاسکتی۔

تاہم سپریم کورٹ نے ان دونوں فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے مونٹگومیری کی سزائے موت پر عمل درآمد کرنے کا حکم صادر کردیا۔
مونٹگومیری کے وکلائے دفا ع کا کہنا تھا کہ وہ بچپن میں ‘جنسی اذیت رسانی اور اجتماعی عصمت دری‘ کا شکار ہوئی تھی جس کے اس پر سنگین ذہنی اثرات مرتب ہوئے جبکہ اس کے خاندان میں بھی ذہنی بیماری کا ریکارڈ پایا جاتا ہے۔

استغاثہ نے تاہم مونٹگومیری پر ذہنی بیماری کا بہانہ بنانے کا الزام لگا یا اور کہا کہ اس نے اسٹینیٹ کا قتل منصوبہ کے تحت اور کافی سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ حتٰی کہ اس نے سی سیکشن آپریشن کے حوالے سے آن لائن تحقیق بھی کی تھی۔

عدالتی سماعت کے دوران جرم کی تفصیلات سن کر جج بھی آبدیدہ ہوگئے۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ مونٹگومیری اپنے گھر سے تقریباً 274 کلومیٹر کا سفر طے کرکے شمال مغربی میسوری میں اسٹینیٹ کے پاس یہ کہہ کر پہنچی کہ وہ اس کے کتے کو گود لینا چاہتی ہے۔

دونوں کی ملاقا ت ایک ڈاگ شوکے دوران ہوئی تھی۔ لیکن اس نے اسٹینیٹ کا گلا گھونٹ دیا اور پیٹ چیر کر رحم مادر سے بچی کو نکال کر فرار ہوگئی۔
استغاثہ کا کہنا تھا کہ مونٹگومیری نے بعد میں اپنے شوہر کو فون کرکے بتایا کہ اس نے ایک قریبی زچہ خانے میں ایک بچی کو جنم دیا ہے۔

مونٹگومیری کو تاہم نوزائیدہ بچی ‘وکٹوریا جو‘ کے ساتھ اگلے دن گرفتار کرلیا گیا۔

وکٹوریا جو اب سولہ برس کی ہوگئی ہیں اور انہوں نے اس سانحہ کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہا۔
مونٹگومیری کی سزائے موت سے قبل وفاقی حکومت کی طرف سے آخری مرتبہ 18دسمبر 1953 ء کو بونی براؤن ہیڈی کو موت کی سزا د ی گئی تھی۔ انہیں ایک چھ سالہ بچے کا اغوا اور قتل کرنے کا قصوروار قرار دیا گیا تھا۔

ج ا / ک م (اے پی)

اپنا تبصرہ بھیجیں