14

ایران میں مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال

امریکہ نے ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال اور ذرائع مواصلات پر لگائی جانے والی ’شدید پابندیوں‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکہ ایرانی عوام کے حکومت کے خلاف پرامن احتجاج کی حمایت کرتا ہے۔‘
اتوار کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال اور مواصلاتی پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں۔‘

ایران میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرین اور پولیس کے درمیان چھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تھا جبکہ حکام نے پرتشدد مظاہروں کے بعد انٹرنیٹ تک شہریوں کی رسائی محدود کر دی تھی۔
یران میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والے حالیہ پرتشدد مظاہروں کے دوران یہ دوسری ہلاکت تھی جس کی تصدیق ہوئی۔

دوسری طرف ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے ’مظاہرین کی حمایت‘ میں جاری کیے جانے والے بیان کی مذمت کرتا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موساوی نے کہا ہے کہ ’ایران کے باشعور لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ اس طرح کے منافقانہ بیانات میں کوئی ایماندارانہ ہمدردی نہیں ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ کے سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے سنیچر کو اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’امریکہ مظاہرین کے ساتھ ہے۔‘
قبل ازیں سنیچر کو نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’اسنا‘ نے قائم مقام گورنر محمد محمود آبادی کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ وسطی شہر سرجان میں ایک شہری مظاہرے کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔

’اسنا‘ نے انفارمیشن اینڈ ٹیلی کمیونکیشن منسٹری کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ سنیچر کی رات سے انٹرنیٹ تک رسائی محدود کر دی گئی ہے اور یہ اگلے 24 گھنٹوں تک جاری رہے گی۔انٹرنیٹ تک رسائی محدود کرنے کا فیصلہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے کیا تھا اور اس سے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ سرکاری میڈیا کی ان رپورٹس کے بعد کیا گیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ ’دشمن میڈیا‘ سوشل میڈیا پر موجود جعلی خبروں اور ویڈیوز کو مظاہروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے.انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ’نیٹ بلاک‘ کا کہنا تھا کہ ’ہفتے کو رات گئے پورا ایران انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کی لپیٹ میں تھا۔

خیال رہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافے کے خلاف سنیچر کو تہران سمیت ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جن میں مظاہرین کی پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کی حمایت کی تھی۔ ان کے مطابق ’تین سربراہوں کے فیصلے کے پیچھے ماہرین کی آرا ہوتی ہے، اس پر عمل درآمد ضروری ہوتا ہے۔‘مظاہرے 40 شہروں اور قصبوں میں پھیل گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں