59

بائیڈن انتظامیہ کی مشکلات میں اضافے کے لیے مائیک پومپیو کا ایران پر القاعدہ سے تعلقات کا الزام عائد کرنے کا فیصلہ امریکی وزیرخارجہ نئی ڈی کلاسیفائیڈ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کو استعمال کرتے ہوئے ایران پر القاعدہ سے تعلق کا الزام عائد کریں گے’تاکہ بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی میں مشکلات آئیں. برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ

بائیڈن انتظامیہ کی مشکلات میں اضافے کے لیے مائیک پومپیو کا ایران پر القاعدہ سے تعلقات کا الزام عائد کرنے کا فیصلہ
امریکی وزیرخارجہ نئی ڈی کلاسیفائیڈ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کو استعمال کرتے ہوئے ایران پر القاعدہ سے تعلق کا الزام عائد کریں گے’تاکہ بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی میں مشکلات آئیں. برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ایران پر القاعدہ سے تعلق کا الزام عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں مائیک پومپیو نئی ڈی کلاسیفائیڈ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کو استعمال کرتے ہوئے ایران پر القاعدہ سے تعلق کا الزام عائد کریں گے. اس معاملے سے آگاہ دو افراد کے مطابق یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف اپنے آخری دنوں میں کیے جانے والے اقدامات میں سے ایک ہے صدر ٹرمپ کے دور صدارت کے خاتمے سے صرف 8 دن پہلے توقع کی جا رہی ہے کہ مائیک پومپیو ایران کی جانب سے القاعدہ راہنماﺅں کو محفوظ پناہ گاہیں دینے اور اسے حمایت فراہم کرنے کی تفصیلات کو ظاہر کریں گے.
برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کانگریس اور انٹیلی جنس کمیٹی میں کافی تحفظات پائے جاتے ہیں یہ واضح نہیں ہے کہ مائیک پومپیو آج نیشنل پریس کلب میں کی جانے والی اس تقریر میں اس حوالے سے کتنی تفصیلات ظاہر کریں گے. نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر معاملے سے آگاہ ذرائع نے نشریاتی ادارے کو بتایا ہے کہ وہ اس حوالے سے اگست میں تہران میں القاعدہ کے سیکنڈ ان کمانڈ کی ہلاکت کو ایک مثال کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں” نیو یارک ٹائمز“ میں نومبر میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ابو محمد المصری جن پر افریقہ میں دو امریکی سفارت خانوں پر حملوں کی منصوبہ بندی میں مدد کا الزام عائد کیا گیاتھا ابومحمد المصری کو اسرائیلی آپریٹیوز نے ایران میں ہلاک کر دیا تھا.
ایران نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی زمین پر کوئی القاعدہ کے ”دہشت گرد“ نہیں پائے جاتے صدر ٹرمپ کی دور صدارت میں ایران ان کی انتظامیہ کا مسلسل ہدف رہا ہے جبکہ حالیہ ہفتوں میں مائیک پومپیو نے ایران پر مزید دباﺅ ڈالنے اور سخت پابندیوں سمیت کئی اقدامات اٹھائے ہیں. نو منتخب صدر جو بائیڈن کے مشیروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ یہ کوششیں اس لیے کر رہی ہے تاکہ نئی انتظامیہ کو اس حوالے سے ایران سے دوبارہ تعلقات بحال کرنے اور جوہری معاہدے میں دوبارہ شمولیت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے مائیک پومپیو ماضی میں بھی ایران پر القاعدہ سے تعلق کا الزام عائد کر چکے ہیں لیکن انہوں نے اس کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دیا تھا.
اکتوبر 2017 میں اس وقت کے سی آئی اے ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ ایسا کئی بار ہو چکا ہے کہ ایرانیوں نے القاعدہ کے ساتھ مل کر کام کیا ہے اس سے قبل سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی جانب سے ایران کے القاعدہ اور نائن الیون حملوں سے تعلق کے حوالے سے عائد کیے جانے والے الزامات کو جھٹلایا جا چکا ہے لیکن کئی برسوں سے القاعدہ آپریٹیوز کی ایران میں موجودگی کی خبریں منظر عام پر آتی رہی ہیں.
اس معاملے کی براہ راست معلومات رکھنے والے سابق سینئیر امریکی انٹیلی جنس اہلکار کا کہنا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں سے قبل یا اس کے بعد ایرانیوں کی القاعدہ کے ساتھ دوستی نہیں تھی اور موجودہ تعاون کے کسی بھی دعوے کو بہت احتیاط سے دیکھا جانا چاہیے شیعہ ایران اور القاعدہ جو ایک سنی عسکریت پسند تنظیم ہے ہمیشہ سے فرقہ وارانہ دشمن رہے ہیں.
سال 2018 سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار ہیں 2018 میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کیے جانے والے 2015 کے جوہری معاہدے کو ترک کردیا تھا معاہدے کے تحت ایران نے پابندیوں کو ختم کرنے کے بدلے میں اپنی جوہری سرگرمیوں کو کم کر دیا تھا. اپنے دور صدارت کے آغاز سے ہی صدر ٹرمپ نے ایرانی عہدیداروں، سیاست دانوں اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردی تھیں تاکہ وہ تہران کو ایک وسیع تر معاہدے پر بات چیت کے لیے مجبور کر سکیں جو اس کے جوہری پروگرام کو مزید محدود رکھ سکے.
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اقتدار چھوڑنے سے قبل مزید پابندیوں کی توقع کی جا رہی ہے اگرچہ پابندیوں نے تہران کی تیل کی برآمدات میں تیزی سے کمی کی ہے اور عام ایرانیوں کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے لیکن وہ ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں ناکام رہی ہیں نو منتخب صدر جو بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران نے معاہدے پر سختی سے عمل درآمد شروع کیا تو امریکہ جوہری معاہدے میں دوبارہ شامل ہو جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں