98

بجلی کی قیمتوں میں کمی اور 836 روپے کا بوجھ کم کرنے کی کوششوں میں حکومت کو بڑی کامیابی مل گئی بجلی پیدا کرنے والی مزید کمپنیاں نئے معاہدے کیلئے راضی ہوگئیں، گیس سے چلنے والے 3آئی پی پیز نئے معاہدوں پر دستخط کریں گے

بجلی کی قیمتوں میں کمی اور 836 روپے کا بوجھ کم کرنے کی کوششوں میں حکومت کو بڑی کامیابی مل گئی
بجلی پیدا کرنے والی مزید کمپنیاں نئے معاہدے کیلئے راضی ہوگئیں، گیس سے چلنے والے 3آئی پی پیز نئے معاہدوں پر دستخط کریں گے

بجلی کی قیمتوں میں کمی اور 836 روپے کا بوجھ کم کرنے کی کوششوں میں حکومت کو بڑی کامیابی مل گئی، بجلی پیدا کرنے والی مزید کمپنیاں نئے معاہدے کیلئے راضی ہوگئیں، گیس سے چلنے والے 3آئی پی پیز نئے معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے ملک کا گردشی قرضہ اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اس سلسلے میں بدھ کے روز حکومت کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ بجلی پیدا کرنے والی مزید کمپنیاں اگست 2019 میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے طے پائے ایم او یو کے تحت نئے معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے راضی ہوگئی ہے۔ گزشتہ دنوں سولر پاور اور گنے کی پھوک سے بجلی پیدا کرنے والی کچھ کمپنیاں نئے معاہدے کرنے کیلئے راضی ہوگئی تھیں، جبکہ اب گیس سے بجلی پیدا کرنے والی 3 کمپنیاں بھی نئے معاہدوں پر دستخط کرنے کیلئے تیار ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان 3 کمپنیوں نے بھی اگست 2019 میں ہوئے ایم او یو پر دستخط کیے تھے۔ اب ان کمپنیوں کی رضامندی کے بعد وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔ ان آئی پی پیز کے ساتھ کابینہ کی منظوری سے نئے معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ معاہدے طے پانے سے ناصرف بجلی کی قیمتوں میں کمی آئے گی بلکہ گردشی قرضہ بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ نئے معاہدوں سے حکومت کو836 ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر اسد عمر کی جانب سے کچھ عرصہ قبل جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ بجلی معاہدوں پر نظرثانی سے بجلی صارفین کو 3 سال میں 300 ارب کا ریلیف ملے گا۔ 2022 میں بجلی 74 پیسے اور 2023 میں 66 پیسے فی یونٹ سستی ہو گی۔ جبکہ کم صلاحیت والے پلانٹس کو بند کر کے بہتر کارکردگی والے پاور پلانٹس چلائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں