68

بھارتی اعلیٰ شخصیات نے مقبوضہ کشمیر کو برفیلی جیل قرار دے دیا

سری نگر: بھارت کی اعلیٰ شخصیات پر مشتمل ایک وفد نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد وادی کو ٹھنڈی جیل قرار دے دیا۔

سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، سینئر صحافی بھارت بھوشن اور ایئرفورس کے سابق وائس ایئر مارشل کپل کاک سمیت سول سوسائٹی کے وفد نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد مودی حکومت کے حالات معمول پر ہونے والے دعوے کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کردیا۔

یشونت سنہا کا کہنا تھا کہ کشمیر میں حالات نارمل نہیں، ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی دیکھا ساری دکانیں بند ہیں، کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، فون اور انٹرنیٹ پر پابندی ہے، حکومت یا جانبدار میڈیا سے ہم تک معلومات پہنچتی ہیں، اس لیے ہم خود آزادانہ طور پر حالات کا جائزہ لے کر ملک کو اصل صورتحال سے آگاہ کریں گے۔

کپل کاک نے موجودہ صورتحال کو فروزن امپریزنمنٹ (یخ بستہ قید) قرار دیتے ہوئے کہا کہ 70 لاکھ کشمیریوں کو یخ جیل میں رکھنے کے باوجود صورتحال کو معمول پر قرار دیا جارہا ہے، حکومت کو اعلانات کے بجائے کشمیریوں کے درد کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے جس میں وہ 5 اگست سے مبتلا ہیں جب کشمیر کی نیم خود مختاری کے خاتمہ کا اعلان کیا گیا۔

بھارت بھوشن نے کہا کہ کشمیر کے حالات پرسکون اور پرامن نہیں ہیں جبکہ میڈیا کو بھی کام کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، کاروبار بھی ٹھپ ہے، آخر کشمیری بھی ہماری طرح شہری ہیں، تو ان کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں