79

’’بھارتی لیگ‘‘ میں پاکستانی گلوکار

آپ شین واٹسن کا انٹرویو کریں اور بعد میں پتا چلے کہ آواز تو ریکارڈ ہوئی ہی نہیں تو کیسا محسوس ہوگا یقیناً بہت بْرا،میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا،انھوں نے باتیں بھی بڑی دلچسپ کیں اور مجھے یقین تھاکہ انٹرویو ہٹ ہوگا مگر بغیر آواز کے صرف ویڈیو تو بے کار تھی، وہ تو قسمت اچھی تھی کہ واٹسن دوبارہ بات چیت کیلیے تیار ہو گئے ورنہ اچھا موقع ہاتھ سے نکلنے کا ہمیشہ افسوس رہتا۔

صحافتی کیریئر میں اکثر اچانک ایسے مسائل سامنے آ جاتے ہیں، جیسے گذشتہ پی ایس ایل میں ایک اسٹار کرکٹر کا انٹرویو کرتے وقت میرے موبائل کی میموری ختم ہو گئی تو پھران کرکٹر کے موبائل میں انٹرویو ریکارڈ ہوا جو بعد میں انھوں نے مجھے بھیجا، ایسے کئی دلچسپ واقعات ہیں جن کا کبھی کسی الگ کالم میں تذکرہ کروں گا۔

یو اے ای جانے کا مقصد ہی چند کرکٹرز کے انٹرویوز کرنا تھا کیونکہ ان دنوں وہاں ٹی 10 لیگ کی رونق لگی ہوئی ہے، میں 2 دن دبئی میں رہا اور درمیان میں چند گھنٹوں کیلیے ابوظبی گیا تووہاں ایک دوست نے افتتاحی تقریب میں شرکت کا پاس بھی دے دیا،میڈیا سینٹرسے الگ باکس میں بیٹھ کر کسی ایونٹ کو دیکھنا بھی منفرد تجربہ تھا،2سال پہلے جب سابق چیئرمین نجم سیٹھی ناراض ہوئے تومجھے تو پہلے میچ سے قبل کارڈ جاری کر دیا مگر پی ایس ایل میں ساتھی صحافی کی ایکریڈیشن روک دی تھی، اس وقت ان سے اظہار یکجہتی کیلیے میں نے ایک میچ باکس میں بیٹھ کر دیکھا تھا، اب ٹی 10کی افتتاحی تقریب دیکھی۔

عاطف اسلم مجھے بہت پسند ہیں اور سچی بات ہے کہ میں تو ان کی پرفارمنس دیکھنے ہی گیا تھا، وہاں میرے دوست نے کان میں کہا کہ ’’کیا عاطف نے کسی دوسرے ملک کی شہریت لے لی جو یہاں پرفارم کر رہا ہے، مشتاق احمد بھی ابھی گراؤنڈ میں نظر آئے تھے، تم تو کہہ رہے تھے کہ پی سی بی نے اسے بھارتیوں کی لیگ قرار دے کر کھلاڑیوں کو شرکت سے روک دیا ہے‘‘ اس پر میں نے انھیں بتایا کہ پابندی صرف کرکٹرز کی حد تک ہے گلوکاروں اور کوچز پر لاگو نہیں ہوتی، پھر وہ بحث کرنے لگے کہ ’’کیا یہ کھلا تضاد نہیں روکنا تھا تو سب کو روکتے‘‘ میں نے انھیں جواب دیاکہ بھائی یہ سوال احسان مانی اور وسیم خان سے پوچھو مجھے عاطف کے گانے سننے دو۔

باکس سے باہر گیا تو بھارتی اداکار سلمان خان کے بھائی سہیل خان کو دیکھا، چند لڑکے ان کے پاس سیلفی کیلیے گئے تو انھوں نے انکار کر دیا،اس پر میرے ذہن میں آیا کہ سہیل کے اتنے نخرے ہیں تو سلمان کا کیا حال ہوگا۔ وہاں سے میں دبئی واپس چلا گیا، اگلی صبح میری کراچی کی فلائٹ تھی، اس سے قبل آسٹریلیا کا دورہ اچھا گذرا،پہلے بھی ذکرکیا تھا سڈنی سے پرتھ اتنی دور ہے کہ آپ کراچی سے دبئی جائیں وہاں چائے پئیں پھر واپس کراچی آ جائیں،آسٹریلیا کے دیگر شہروں اور پرتھ کے ٹائم میں بھی تین گھنٹے کا فرق ہے، وہاں اپنے پرانے دوست ذیشان عباسی کے ساتھ اچھا وقت گذرا۔

ٹیسٹ میچز میں چونکہ وقفہ زیادہ تھا اس لیے میں نہیں رکا،آسٹریلیا ویسے ہی بہت مہنگا ملک ہے اور اگر آپ پاکستان سے وہاں جائیں تو ہر چیز کے نرخ بہت زیادہ لگتے ہیں، اب تو خیر یو اے ای کا درھم بھی 42روپے سے زائد کا ہو چکا، پاکستانی کرنسی ڈی ویلیو ہونے کا ان لوگوں کو بھی بہت نقصان ہوا جو کام کیلیے باہر جاتے رہتے ہیں، فضائی ٹکٹ، ہوٹل کا کرایہ، کھانا پینا سب کا ریٹ بڑھ چکا، البتہ پی سی بی آفیشلز کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ذاکر خان کے بعد اب وسیم خان بھی آسٹریلیا پہنچ چکے، ان دونوں کے ٹکٹ، رہائش اور الاؤنسز کو ملا کر دیکھیں تو کئی ڈومیسٹک کرکٹرز اور ملازمت سے فارغ ہونے والے آفیشلز کے واجبات ادا ہو جائیں،مگر افسوس پاکستان میں ایسا سوچتا ہی کون ہے۔

میرے جیسے صحافی آوازاٹھائیں تو انھیں پریشان کرنا شروع کردیا جاتا ہے، عام لوگوں کو تو معاملات کی سنگینی کا علم نہیں، نئے ڈومیسٹک سسٹم نے کھلاڑیوں، کوچز، کیوریٹرز سب کو بیحد پریشان کیا ہے، بورڈ نے ڈرا دھمکا کر سب کو خاموش کرایا ہوا ہے، جب کوئی بیچارہ بے روزگاری کے وجہ سے ٹیکسی چلاتا پایا جائے یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو ایک، دو دن کیلیے میڈیا میں شور مچتا اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے، بیچارے کرکٹرز کو 50 ہزار روپے ماہانہ پر اکتفا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب سی ای او اور ڈائریکٹر میڈیا کو ریکارڈ تنخواہیں دی جا رہی ہیں،اس ملک میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اب پی ایس ایل میں صرف تین ماہ رہ گئے مگر ابھی تک معاملات کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی، فرنچائزز بھی بورڈ سے ناراض ہیں مگر کس سے بات کریں، چیئرمین اور سی ای او ہاتھ آتے نہیں، ایونٹ ڈائریکٹر کا تاحال تقرر نہیں کیا گیا، مجھے اس بورڈ کی سب سے بڑی خامی تکبر لگی، چاہے وہ چیئرمین، سی ای او، ڈائریکٹرانٹرنیشنل کرکٹ یا ڈائریکٹر میڈیا کوئی بھی ہوں سب کا انداز متکبرانہ ہے۔

ہم لوگ تو عام صحافی ہیں، یہ تو فرنچائز اونرز اور کرکٹرز سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے، انھیں یہ احساس نہیں کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، آج اعلیٰ حکام کی سپورٹ پر خود کو طرم خان سمجھنے والوں کو کل کوئی پوچھے گا بھی نہیں، کہاں گئے نجم سیٹھی وہ بھی اکڑ کر چلتے تھے اب ان کا کوئی نام بھی نہیں لیتا، قذافی اسٹیڈیم کا پانی ہی شاید کچھ ایسا ہے کہ اسے پی کر انسان اقتدار کے نشے میں آ جاتا ہے پھر اسے اپنے سامنے کوئی دکھائی نہیں دیتا۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ان دنوں بورڈ کے معاملات بہت خراب ہیں، کوئی بھی اسٹیک ہولڈر خوش نہیں مگر حکام چین کی بانسری بجائے جا رہے ہیں، ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی، سابق کرکٹرز کی تنقید یا میڈیا رپورٹس کا کوئی اثر نہیں ہوتا، بس اس بات کا غرور ہے کہ وزیر اعظم کی سپورٹ ہمیں حاصل ہے، مگر ایسا کب تک رہے گا وہ بھی نہیں جانتے، کاش کوئی عمران خان کے کان میں جا کر کہہ دے کہ جناب کرکٹ کے معاملات کو بھی دیکھ لیں، مجھے یقین ہے کہ کسی دھرنے کے بغیر ہی ایسا ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں