43

بھارت میں 101 سالہ وکیل کو ’بڑھاپا‘ چھو کر بھی نہیں گزرا

: بھارت میں 101 سالہ وکیل نارائن سنگھ اب بھی روزانہ کی بنیاد پر عدالت جاتے ہیں اور نوجوانی کی گھن گرج کے ساتھ مقدمات کی پیروی کرتے ہیں، دلائل ٹھوکتے ہیں اور ازبر آئین کی شقوں کے باؤنسر سے مخالف وکیل کو چت کردیتے ہیں۔

عمر رفتہ کے ساتھ ساتھ اعضا اپنے اول دن کے رفیق انسان کا آہستہ آہستہ ساتھ چھوڑتے جاتے ہیں، بصارت دھندلا جاتی ہے، سماعت کوسوں دور ہو جاتی ہے، بصیرت اور حافظے کا چولی دامن کا ساتھ کمزورپڑ جاتا ہے، آواز مدھم اور چلنا پھرنا دوبھر ہوجاتا ہے۔ 60 سے 70 سال کی عمر کے افراد کیلیے یہ تمام رکاوٹیں پہاڑ کی مانند کھڑی ہوتی ہیں۔
بھارت میں پٹنہ کے شہری نارائن سنگھ نے عمر رسیدگی کے فطرت کے اس کھیل کو شکست دیکر وقت کے بے لگام گھوڑے کو اپنے قابو میں کرلیا ہے۔ 101 سال کی عمر میں چاق و چوبند وکیل ٹھوک بجاکر وکالت کررہے ہیں اور معمولات زندگی کو نوجوانوں سے بہتر انداز سے ادا کر کے سب کو حیران کردیا ہے۔

1948 میں کلکتہ سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے نارائن سنگھ نے کیریر کا آغاز بطور لیکچرار کیا تاہم والد کی خواہش پر اپنے آبائی علاقے میں واپس لوٹے اور 1952 میں وکالت کا آغاز کیا۔ وہ 67 سال سے مسلسل وکالت کرنے والے بھارت کے واحد وکیل ہیں۔
نارائن سنگھ 101 سال کی کامیاب اننگ کھیلنے کے بعد بھی فٹ رہنے کو سادہ طرز زندگی، خوش مزاجی اور سبزیوں کے استعمال کو قرار دیتے ہیں۔ اگر آپ بھی ڈھلتی عمر میں ڈھل جانے سے بچنا چاہتے ہیں تو ان زریں اصولوں کو اپنالیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں