chahat 176

تقریبات میں لوگوں کے قتل کی وجہ بننے والے خواجہ سرا چاہت سے متعلق اہم انکشافات

کوہاٹ : کوہاٹ میں چند دن قبل ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جہاں چاہت نامی خواجہ سرا کی وجہ سے پانچ لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔جس کے بعد ضلعی انتظامیہ کو چاہت کو ضلع بدر کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سائنس و آئی ٹی ضیاء اللہ بنگش نے کہا ہے کہ کوہاٹ میں 2 گروپوں میں فائرنگ اور قتل خواجہ سرا چاہت کی وجہ سے ہوئے۔
کوہاٹ میں خواجہ سرا چاہت کی ضلع بدری کے معاملے پر نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ خواجہ سرا چاہت اور اس کے ساتھیوں کو کوہاٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا تاکہ امن مزید خراب نہ ہو۔ واقعہ پر سارے گاؤں کے لوگ باہر نکل آئے تھے، گاؤں کے لوگوں کا مطالبہ تھا کہ واقعے کی وجہ بننے والے خواجہ سرا چاہت کے خلاف کارروائی کی جائے۔

بتایا گیا کہ شادی کی ایک تقریب کے دوران لوگوں کے دو گروپس تھے اور دونوں چاہت کی توجہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔جب ایک گروپ نے دیکھا کہ چاہت کی جانب سے دوسرے گروپ کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے تو وہ مشتعل ہو گئے۔مذکورہ گروپ کا موقف تھا کہ چاہت دوسرے گروپ کو زیادہ توجہ اور پیار دے رہی ہے جس بنا پر لڑائی شروع ہوئی اور نتیجتاََ پانچ لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔
ایک پارٹی چاہتی تھی کہ چاہت ان کے ساتھ وقت گزارے لیکن جب اس نے دوسری پارٹی کے ساتھ وقت گزارا تو اُن سے برداشت نہ ہوا۔یہی وجہ ہے کہ دونوں گروپس میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پہلے بھی ایک تقریب میں چاہت کو پرفارم کرنے کے لیے بلایا گیا تھا اور وہاں 19لوگ قتل ہو گئے تھے۔ تحقیقات کے مطابق چاہت ہی کی وجہ سے ضلع میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں۔اسی حوالے سے خواجہ سراؤں نے اردو پوائنٹ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جو کچھ ہوا، اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے۔
خواجہ سرا کبھی بھی فساد نہیں چاہتے۔ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ ہمیں ضلع بدر نہیں کیا جائے۔خواجہ سراؤں کا کہنا ہے کہ اس دن لوگ نشے کی حالت میں تھے۔لڑائی میں نہ تو چاہت کی غلطی تھی اور نہ ہی ہماری غلطی تھی۔وزیراعلیٰ کے مشیر ضیاء اللہ بنگش کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ شادی کی ایک تقریب میں پیش آیا۔جب میں جاں بحق ہونے والوں کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے گیا تو لوگوں نے چاہت سے متعلق بتایا اور اسے ضلع بدر کرنے کی درخواست کی۔چاہت نے شادی کی تقریب میں کچھ اور لوگ بلائے ہوئے تھے جس وجہ سے لڑائی شروع ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں