113

تنزانیہ کی پہلی خاتون صدر نے ذمہ داریاں سنبھالیں

سابق صدر جان مگوفولی کے انتقال کے بعد تنزانیہ کی پہلی خاتون صدر نے ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سامیہ سولوہو حسن تنزانیہ کی پہلی خاتون صدر بن گئی ہیں۔ وہ دو روز قبل انتقال کرنیوالے صدر جان مگوفولی کی نائب صدر تھیں۔

تنزانیہ کے آئین کے تحت وہ مگوفولی کی پانچ سالہ مدت تک اقتدار میں رہیں گی جو 2025 تک جاری رہے گی۔ صدر مگوفولی 61 برس کی عمر میں دو راز قبل انتقال کر گئے تھے۔

تنزانیہ میں انہیں 61 سالہ سامیہ سولوہو حسن کو پیار سے لوگ ماما سامیہ کے نام سے پکارتے ہیں۔

سامیہ سولوہو حسن سال 2000 میں پہلی بار عوامی عہدے کے لیے منتخب ہوئیں۔ وہ 2014 میں تنزانیہ کی دستور ساز اسمبلی کی نائب چیئرپرسن کے طور پر منتخب ہوئیں اور ملک کا نیا آئین مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

تنزانیہ کے نئے دستور مرتب کرتے وقت انہوں نے مختلف جماعتوں کے ارکان کو تحمل سے سنا اور سب کو ایک پیج پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا جس کے بعد عوامی سطح پر ان کو سیاسی پزیرائی ملی۔

اس سے قبل ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے نائب صدر سامیہ نے صدر مگوفولی کے انتقال کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا وہ عارضہ قلب میں مبتلا اور ہسپتال میں زیرعلاج تھے۔

مگوفولی گزشتہ دو ہفتوں سے منظر عام سے غائب تھے جس پر کورونا کا شکار ہونے اور دیگر قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ مگوفولی کے انتقال پر 14 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں