64

جمعیت علمائے اسلام (ف) حکومت سے تصادم کے لیے تیار ہے

جمیعت علمائے اسلام (ف) اس وقت حکومت سے تصادم کرنے کے لیے تیار ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو دو دن کی مہلت دی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر حکومت نے فوج کو بھی اسٹینڈ بائی کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان اپنے مطالبات منوانے کے لیے حکومت کو دھمکانے کے ساتھ ساتھ آزادی مارچ کے شرکا کے ہمراہ ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔جس کے نتیجہ میں سرکاری مشینری کی جانب سے فل فورس کا استعمال کیا جائے گا۔ جبکہ حساس مقامات کی سکیورٹی کے لیے پاک فوج سٹینڈ بائی کر دیا گیا ہے۔ قومی اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ اعلیٰ سرکاری حکام کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے مارچ کو دھرنے کی شکل دینے پر حکومت سے کئے گئے معاہدہ کی صریح خلاف ورزی کر دی ہے لیکن ان کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

حکومت طاقت کا استعمال صرف اُس وقت کرے گی جب مولانا فضل الرحمان ریڈ زون میں داخلے کی کوشش کریں گے۔ اعلیٰ سرکاری حکام نے انٹیلی جنس اداروں کی ”ڈیلی اور آورلی سیچویشن رپورٹس ” کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مولانا کو جمعیت علمائے اسلام (ف)،پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ جے یوآئی(ف) کسی صورت واپسی کا راستہ نہ لے اور وزیر اعظم کے استعفے اور نئے انتخاب کا شیڈول لے کر ہی پشاور موڑ سے اُٹھے ،بصورت دیگر مولانا فضل الرحمان اپنے ہزاروں کارکنان کے ساتھ ریڈ زون میں داخل ہو جائیں اور مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھیں۔مولانا کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس ضمن میں مولانا کو مکمل طور پر سپورٹ کریں گی۔ اعلیٰ سرکاری حکام نے خفیہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت پہلے سے ہی یہ بات طے کر چکی تھی کہ ریڈ زون پر چڑھائی کا منصوبہ پشاور موڑ پر مارچ کرنے والوں کی مطلوبہ تعداد پوری ہونے پر کیا جائے گا۔ 40 ہزار کے مجمع کا ٹارگٹ رکھا گیا تھا جبکہ خیبرپختونخواہ کی قیادت نے جلسے کے شرکا کی تعداد تعداد 50 ہزار تک پہنچانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔عسکری اور سول خفیہ اداروں اور دیگر ذرائع کے مطابق فضل الرحمان نے مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کر لیا ہے۔ جے یوآئی(ف) کی اعلیٰ قیادت اب مطالبات منوانے پر بضد ہے اور حکومتی اداروں سے تصادم کے لیے بھی تیار ہے ۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے حکومت کے ساتھ ممکنہ تصادم کی صورت میں فوج کا کردار سب سے اہم ہو گا کیونکہ پاک فوج ہی ریڈ زون کے سکیورٹی پروٹوکولز کی خلاف ورزی کو مؤثر طریقہ سے روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں