jobiden 24

جوبائیڈن کی بڑی جیت ‘ پنسلوینیا میں ٹرمپ کو بڑا جھٹکا ایروزنا اورجارجیامیں کلین سوئپ

واشنگٹن امریکی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کی آمد کا سلسلہ اب تک جاری ہے اور ریاست ایریزونا کا غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجہ آ گیا ہے جس کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن ایریزونا میں فاتح قرار پائے ہیں اور انہیں ریاست کے تمام11الیکٹرول ووٹ مل گئے ہیں . روایتی طور پر سوئنگ اس ریاست میں صرف 1996کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو کامیابی حاصل ہوئی تھی اوراب24سال کے طویل عرصے بعد یہ ریاست دوبارہ انتخابی نقشے پر نیلی ریاست کے طور پر ابھری ہے اسی طرح جارجیامیں ڈیموکریٹس کو آخری کامیابی 1992میں حاصل ہوئی تھی.
ریاست جارجیاکے بارے میں امریکی جریدے ”نیویارک ٹائمز“کا کہنا ہے کہ جارجیاکے16الیکٹرول ووٹوں کے ساتھ جوبائیڈن کے مجموعی الیکٹرول ووٹوں کی تعداد306ہوجائے گی جریدے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اب یہ واضح ہوچلا ہے کہ جارجیا28سال کے بعد انتخابی نقشے پر نیلی ریاست بن کر ابھرنے جارہی ہے. امریکی انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان ابھی نہیں ہوا لیکن 50 میں سے 48 ریاستوں کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج آ چکے ہیں الاسکا اور جارجیا کے نتائج آنا اب بھی باقی ہیں.
الیکٹرول کالج کے ووٹوں کا اگر جائزہ لیں تو ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کے الیکٹرول ووٹ کی تعداد ایریزونا کے نتائج آنے کے بعد 290 ہو گئی ہے جبکہ صدر بننے کے لیے انہیں 270 ووٹ درکار تھے ان کے مقابلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکٹرول ووٹوں کی تعداد232ہوچکی ہے ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے شمالی کیرولائنااور جارجیا کے 19ووٹ حاصل کرنے کے باوجود جیتنا ناممکن ہوچکا ہے.
اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے آخر کار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکلاءنے ریاست پنسلوینیا میں صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف اپیلوں میں اپنی نمائندگی سے دستبرداری اختیار کرلی ہے اور کہا جارہا ہے ٹرمپ اپنے قانونی مشیروں سے مشاورت کی ہے جس کے بعد دیگر ریاستوں میں بھی ایسے واقعات دیکھنے میں آسکتے ہیں. صدر ٹرمپ کے وکلا نے کہا کہ یہ اقدام اپیلوں کی فزیبلٹی پر اختلاف رائے کے بعد سامنے آیا ہے انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ نتائج چیلنج کرنے سے جمہوری عمل کی سالمیت پر سوال اٹھائے جائیں گے یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات اور اس کے نتائج کے ساتھ ہونے والی الجھن کے باوجود امریکی الیکشن حکام نے اس بات کی تردید کی تھی کہ صدارتی انتخابات کے دوران ووٹوں کے گمشدگی یا ترمیم یا انتخابی نظام میں نقائص کے ثبوت موجود ہیں.
الیکشن کمیشن کے حکام نے خاص طور پر ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمہ سائبر سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی سمیت ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ 3 نومبر کو امریکی تاریخ کے سب سے محفوظ انتخابات ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ بھی انتخابی نظام میں کوئی نقائص ہیں ووٹ ضائع ہونے یا نتائج میں تبدیلی کا کوئی ثبوت نہیں.
امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے انتخابی عمل کو بہت سے الزامات کا سامنا ہے لیکن ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہمیں اپنے انتخابات کی سلامتی اور سالمیت پر مکمل اعتماد ہے‘ادھر امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار کی پرامن منتقلی پر رضامند ہوگئے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ عبوری مدت کے دوران ہی وائٹ ہاﺅس چھور کر نیویارک یا فلوریڈا منتقل ہوجائیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں