34

حراستی مراکز کیس، کیا ہم آئین سے فٹبال کھیلیں؟ چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس نے فاٹا پاٹا ایکٹ اور حراستی مراکز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اصل ایشو بغیر ٹرائل اور بغیر الزام لوگوں کو حراست میں رکھنا ہے، پہلے قانون بنانے کے اختیار کو دیکھیں گے پھر قانون کو، ہم اپنے شہریوں کے مقدمات سن رہے ہیں، آئینی حقوق سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ شدید بخار کے باعث دلائل نہیں دے سکتا، اہم کیس ہے اس لیے التوا کی درخواست نہیں کر رہا،آج عدالت دوسرے فریق کو سن لے تاکہ سماعت ملتوی نہ ہو، چیف جسٹس نے کہا کہ فوج کے حوالے سے قانون سازی صوبوں کا نہیں وفاق کا اختیار ہے، پہلے حراستی مراکز کی آئینی حیثیت کا تعین کرینگے پھر اگلی بات ہوگی، قانون سازی آئین کیخلاف ہوئی تو آرٹیکل 245 کا تحفظ نہیں ملے گا،آرٹیکل 245 کا تحفظ نہ ہو تو ہائیکورٹ قانون کا جائزہ لے سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ تفصیلی موقف صحتیاب ہوکر اپنے دلائل میں دونگا جس پر جسٹس فائزعیسی نے کہا آپ دلائل نہیں دے سکتے تو آئے کیوں ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا اگر آپ نے جارحانہ ہونا ہے تو میں دلائل نہیں دے سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا لوگ پوچھتے ہیں جن لوگوں نے ہمارے جوانوں کے سروں سے فٹ بال کھیلا انکا کیا کریں گے۔ میں کہتا ہوں تو کیا پھر ہم آئین سے فٹ بال کھیلیں، عدالت نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے کو مزید تیاری کیلئے پیر تک مہلت دیدی، عدالت نے ہیروئن سمگلنگ کیس میں ملزمان کے وکیل کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں