80

داتا دربار دھماکا کیس: سہولت کار مجرم کو 22 بار سزائے موت سنا دی گئی

لاہور: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم محسن خان کوانسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے تحت 11 بار اور دفعہ 302 کے تحت 11 بار موت کی سزاسنائی۔

رواں سال 8 مئی کو داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب خود کش حملہ ہوا تھا جس میں پولیس اہلکاروں سمیت 11 افراد شہید اور 30 افراد زخمی ہوئے تھے، لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے داتا دربار دھماکا کیس کے ملزم کو 22 بار سزائے موت اور ایک بار عمر قید کی سزا سنا دی۔

پراسیکیوٹر (استغاثہ) کے مطابق ملزم محسن کا تعلق چارسدہ کے علاقے شبقدر سے ہے اور اس نے خود کش حملہ آور کو سہولت کاری فراہم کی تھی، خودکش حملہ آور صدیق اللہ اور محسن خان 6 مئی کو طورخم کے راستے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے اور دونوں لاہور آئے تھے جہاں انہوں نے داتا دربار کے قریب ایک مکان میں رہائش اختیار کی، جب کہ گرفتار ی کے وقت بھی ملزم محسن سے بارودی مواد برآمد ہوا تھا جب کہ ملزم کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم محسن خان کو انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے تحت 11 بار اور دفعہ 302 کے تحت 11 بار موت کی سزا سنائی جب کہ عدالتی فیصلے میں ملزم کو 4 لاکھ روپے جرمانہ متاثرین کو ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں