89

دلی فسادات: ’دھوئیں سے سیاہ عمارتیں اور گندھک کی بو تباہی کے خاموش گواہ ہیں‘

اپنی کار کی کھلی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے، دہشت گردی کے اس منظر کو بیان کرنا بہت مشکل ہے۔

لیکن چاروں طرف پھیلی تباہی دل کو بہت گہرائی تک چیرتی ہوئی چلی جاتی ہے۔ ایسا نہیں تھا کہ یہاں کی روزمرہ کی زندگی بدل گئی تھی۔ لیکن جو سامان بکھرا ہوا تھا یا جیسے پھینک دیا گیا تھا اس پر کوئی اپنا حق نہیں جتا رہا تھا۔

یہ تباہ شدہ سامان درحقیقت ایک ایسی دنیا کے خاموش مگر کبھی نہ مکرنے والے ایسے گواہ تھے جو اب مکمل طور پر برباد ہو چکی ہے۔ یہ بکھری ہوئی، ٹوٹی پھوٹی چیزیں اپنے انداز میں خود پر گزری قیامت کی داستان بیان کر رہی تھیں۔

دلی میں ہونے والے فسادات پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

میں جنوبی دلی کے جس علاقے میں رہتی ہوں وہاں سے شمالی مشرقی دلی کا وہ علاقہ قریب ہو کر بھی بہت دور ہے جہاں گذشتہ ماہ ہولناک فسادات کی آگ بھڑکی تھی۔ میں نے اٹھتا ہوا دھواں دیکھا تھا، دہکتے ہوئے شعلے دیکھے تھے اور ابلتا ہوا خون بھی۔ میں نے گلیوں میں ٹوٹ کر بکھرے ہوئے شیشے تصاویر میں دیکھے تھے۔

میں نے کہیں یہ بھی پڑھا تھا کہ اس علاقے کے شیو وہار محلے کے بعض لوگوں نے ان کبوتروں کی گردنیں بھی مروڑ دی تھیں جنھیں ایک شخص نے پال رکھا تھا۔

کسی جگہ سے دوسری جگہ تک کا فاصلہ دراصل وقت کا وہ فاصلہ ہے جسے ہم کسی مقام تک پہنچنے میں طے کرتے ہیں۔ شہر کو اسی طرح تو منقسم کیا جاتا ہے۔ متمول علاقے، مڈل کلاس محلے، مزدور کالونی اور غریبوں کی بستیاں۔ ان کے درمیان جتنی دوری ہوتی ہے، وہیں ان محلوں کے باشندوں کے درمیان فرق پیدا کرتی ہے۔

مجھے شمالی مشرقی دلی کے فساد زدہ علاقوں تک پہنچنے میں تقریبا 30 منٹ لگے۔ یہ وہی علاقہ ہے جسے گذشتہ دنوں بندوقوں، بموں، لاٹھیوں، لوہے کی سلاخوں، پتھروں اور تلواروں سے تباہ و برباد کردیا گیا تھا۔ ’پوسٹ ٹروتھ‘ دور والی اس دنیا میں آپ یہ کیسے معلوم کرسکتے ہیں کہ تشدد کی شروعات کہاں سے ہوئی تھی خاص طور سے تب جب ثبوتوں کے طور پر، ٹوٹی پھوٹی کھوپڑیاں، سیاہی میں لپٹی دیواریں اور ڈھیر سارا دھواں بچا ہو۔

میں کوئی فورینزک ماہر نہیں اور نہ ہی یہ کوئی تفتیش ہے کہ فسادات میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کی گنتی کی جائے بلکہ ایک چھوٹی سی کوشش ہے کہ اس جگہ کے مناظر، فسادات میں برباد ہو چکے محلوں کی داستان، وہاں کے بکھرے ہوئے سامان کی لفظی تصویر پیش کی جائے۔ یہ وہ سامان ہے جس تباہی پھیلانے والوں نے یا تو بخش دیا یا پھر یہ اتفاق سے بچ گیا۔مثال کے طور پر ایک جلی ہوئی کتاب کے اوراق۔ اس کتاب کے اوراق کناروں پر سے جلے ہوئے تھے۔ اور یہ کتاب فسادات زدہ مصطفی آباد علاقے کے ایک سکول کے باہر پڑی ہوئی تھی۔

سڑک کی دوسری جانب ان خواتین کی تصاویر بنائی گئی تھیں جو شہریت کے متنازع قانون سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں احتجاج میں شامل تھیں۔فسادات کے بعد ان گلیوں میں پڑا سازو سامان دراصل اپنی اداسی بیان کررہا تھا۔ اپنی تنہائی کے قصے سنا رہا تھا۔ یہ وہ اشارے تھے جو بتا رہے تھے کہ ان محلوں کی گلیوں سے بربادی کا کتنا بڑا طوفان گزرا ہے۔

یہ اس سازوسامان کی کہانی ہے جو دراصل گزرے ہوئے وقت کی اور یہاں ہوئے ہولناک تشدد کا چشم دید گواہ ہے۔ اس کی آنکھ اور کان ہے۔

فساد زدہ شمالی مشرقی دلی کی داستان حقیقت اور فسانے کو ملا کر بنائی گئی ایک کہانی ہے جس کے درمیان یہ بکھرا ہوا سازوسامان ہی سچ کی مشعل اٹھائے ہوئے ہے۔

ثبوت نمبر 1: سگنیچر برج
برباد ہو چکے شہر کے اس حصے کی جانب چلیں تو ایک پل آتا ہے۔ 2018 میں دلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے اس کا افتتاح کیا تھا۔ شہر کی اہم شناخت بن چکے اس پل کے بارے میں دعویٰ تو یہ کیا گیا تھا کہ یہ شمالی مشرقی دلی کو شہر کے ديگر علاقوں سے قریب لانے میں مدد کرے گا۔ویسے تو دلی کے اندرونی علاقوں تک پہنچنے میں 45 منٹ لگ جاتے ہیں لیکن سگنیچر برج کے بن جانے کے بعد یہ فاصلہ 10 منٹ میں طے ہوجاتا ہے۔ کیجریوال نے دعویٰ تو یہ بھی کہا تھا کہ یہ پل دلی میں آلودگی سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگا اور لوگوں کا ایندھن بھی بچائے گا لیکن 24 فروری کو یہ پل یہاں تک پہنچنے میں لگنے والے وقت کو کم کرنے میں ناکام رہا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس اس جگہ کبھی نہیں پہنچی جہاں فسادیوں نے قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ مقامی لوگوں نے پولیس کو بار بار فون کیے لیکن ان کو جواب تک موصول نہیں ہوئے۔

سگنیچر برج سے آلودگی کا بھی مقابلہ نہیں کیا جا سکا۔ پل کے دوسری جانب بسے شہر میں جلے ہوئے لوگوں، لکڑیوں، اور کاغذوں کی بو جوں کی توں ہے۔

اخباروں کی کترنیں کہتی ہیں کہ سگنیچر برج، قطب منار سے دوگنا اونچا ہے۔ جب میں نے اس پل کو پار کیا تو دیکھا دریائے جمنا یہاں وہاں پیوند کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان میں ندیوں کو توڑنے اور موڑنے کی قوت ہے۔

میرے ڈرائیور نے مجھ سے کہا کہ یہاں بہت سے لوگ گھومنے آتے ہیں حالانکہ میں تو کبھی اس بارے میں نہیں سنا تھا لیکن سر اٹھا کر پل کی اونچائی کا اندازہ لگانے کی کوشش ضرور کی۔

یہ دلی کا پہلا کیبل برج ہے جو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ نمستے کرنے کا اشارہ ہے۔ میڈیا میں شائع ہونے والی خبریں کہتی ہیں کہ اس پل کے تمام فوائد میں سب سے اہم یہ ہے کہ ’سگنیچر برج سے لوگ شہر کے خوبصورت نظاروں کا دیدار کر سکیں گے ٹھیک اسی طرح جس طرح آئیفل ٹاور پر چڑھ کر پیرس کی خوبصورتی کا لطف اٹھاتے ہیں۔‘

حالانکہ میں تو کبھی آئیفل ٹاور دیکھنے نہیں گئی۔

وہ سائن بورڈ اس بات کا اشارہ تھا کہ ہم شدت پسندی والے حصے میں داخل ہو چکے ہیں۔ دوپہر کے بعد کا وقت ہے۔ گلیوں میں بہت کم لوگ نظر آ رہے ہیں۔

ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے مطابق شمالی مشرقی دلی کی آبادی میں بہت بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ یہاں ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہوتی تھی اب یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور کم سے کم اس علاقے میں تو ہندو اقلیت میں آ چکے ہیں۔

یہ مزار چاند باغ کے قریب مرکزی سڑک پر واقع ہے۔ یہ مقبرہ تقسیم کی نشانی بن چکا ہے۔ مزار کے باہر دو جھلسی ہوئی موٹرسائیکلوں کے ڈھانچے پڑے ہوئے ہیں۔ مزار کا جھاڑ فانوس سیاہ پڑ چکا ہے اور چھت کا حال بھی وہی ہے۔

تشدد کے تین دن بعد اس مزار کی دیکھ بھال کرنے والوں نے دیواروں، فرش اور جالی نما دروازوں پر جمع راکھ کو دھویا تھا۔ میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ جب رات کا وقت ہو گا تو اس فانوس کو روشن کرنے کے لیے کتنے بلبوں کی ضرورت ہو گی؟

سیاہ کے معنی ہوتے ہیں بے رنگ، یہ ساری روشنی کو جذب کرتا ہے۔ مقبرے اس دنیا سے گزر چکے کسی شخص کا ٹھکانہ ہے۔ آپ مقبروں میں رہنے والے مردہ لوگوں کو بے دخل نہیں کر سکتے۔

اس مقبرے کو اب پھر سب کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ معراج پہلوان اس کے اندر بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا، ’میں گذشتہ 37 برسوں سے یہاں رہ رہا ہوں۔ یہ سید چاند بابا کا مقبرہ ہے۔ یہاں سب کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔‘

میں سوچنے لگی کہ فسادات کے دوران کتنے لوگ اس مزار کے دروازے سے گزرے ہوں گے، انھوں نے دعاؤں میں کیا مانگا ہو گا۔ کیا انھوں نے یہ جنگ ختم ہونے کی دعائیں مانگی ہوں گی۔‘ثبوت نمبر 3: جلا ہوا پیٹرول پمپ بھی ایک سنگِ میل ہے
دلی فسادات کے دوران ایک پیٹرول پمپ کو نذر آتش کرنے کی تصاویر وائرل ہوئیں۔ میں نے وہ خبریں پڑھی تھیں۔

کسی بھی چیز کے وجود کا احساس کرنے کے لیے آپ کو اسے ہاتھوں میں پکڑنا ہوتا ہے لیکن پیٹرول پمپ کو تو میں اپنے ہاتھوں سے نہیں پکڑ سکتی۔ میں صرف اپنی آنکھوں سے ہی یہ محسوس کرسکتی تھی کہ اسے کس ہولناک توڑپھوڑ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس کا احساس آگ کے حوالے کر دیے گئے پٹرول پمپ پر کھڑی جلی ہوئی کاروں، آگ اور دھویں سے کالی ہوئی دیواروں اور کانوں کو چیر دینے والے سناٹے سے ہوتا ہے۔

یہ جگہ کسی زمانے میں ایندھن کا گودام ہوا کرتی تھی۔مرکزی سڑک پر ملبے کا جو ڈھیر تھا اس پر ایک سرخ رنگ کا پرس پڑا ہوا تھا۔ اس کے موتی کے بٹن تھے۔ میں نے اسے نہیں اٹھایا۔ اس کے کناریاں سیاہ لڑیوں سے بنی ہوئی تھیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ پرس ملبے کے اس ڈھیر پر کیسے پہنچا۔ واضح تھا کہ فسادیوں نے اسے بخش دیا تھا اور کسی نے اس کی ملکیت کا دعویٰ بھی نہیں کیا تھا۔

گلیوں میں ٹوٹے ہوئے شیشے بکھرے تھے۔ سڑک کے ساتھ ساتھ ایک دیوار بھی تھی۔ اس دیوار پر بہت سے نقوش بنے ہوئے تھے۔ کوڑے دان پر سماجی خدمت کا ایک پیغام تھا۔ ڈینگی کو شکست دینے کی اپیل کی گئی تھی۔ ہندوستان کو صاف ستھرا رکھنے کی گزارش بھی کی گئی تھی۔

دیوار پر ایک تنبیہ بھی تھی کہ آپ کیمرے کی نگرانی میں ہیں۔ سڑک کو دو حصوں کو تقیسم کرنے والے میٹرو ریل کے کھمبوں اور فسادات کے بعد بند دکانوں کے شٹر پر کوئلے سے لکھا ہوا تھا ‘نو این آر سی اور نو سی اے اے’ لیکن نشے سے نجات دلانے والے سرکاری مرکز اور ہیلپ لائن کا نمبر بھی آپ صاف پڑھ سکتے تھے۔

دلی کا نیو سلیم پور علاقہ ملک کے ان 272 اضلاع میں سے ایک ہے جہاں منشیات کے شکار افراد کی ایک بڑی تعداد ہے اور اس برس حکومت نے ڈرگ فری انڈیا کے نام سے جو ایک قومی مہم شروع کی ہے اس میں نیو سلیم پور کو بھی شامل کیا گیا ہے۔نیو سلیم پور شمال مشرقی دلی کی ایک مسلم اکثریت والی کالونی ہے۔ اس علاقے میں ہر ایک کلومیٹر میں تقریباً 30 ہزار افراد رہتے ہیں۔ یہ کوئی متمول علاقہ نہیں ہے لیکن یہاں کی اونچی عمارتوں کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ سانس لینے کی جدوجہد میں ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہی ہوں۔

یہاں آپ کو نہ تو کوئی ہوٹل دکھائی دے گا نہ کیفے اور نہ ہی کوئی ریستوران۔ بس ڈومینوز پیزا کی تین دکانیں نظر آئیں گی۔ ان میں سے ایک تو اسی دن کھولی گئی تھی جب میں نیو سلیم پور گئی۔

نیو سلیم پور کے مغرب میں دریائے جمنا ہے تو مشرق میں اترپردیش کا ضلع غازی آباد۔ شمال مشرقی دلی ملک کا سب سے زیادہ گنجان آباد علاقہ ہے اور یہ ملک کے غریب ترین اضلاع میں سے ایک ہے۔

2011 کی مردم شماری کے مطابق دلی کے تمام اضلاع میں سب سے زیادہ مسلم آبادی یہاں رہتی ہے اور یہاں شرح تعلیم دلی کے سب علاقوں سے کم ہے۔

ایک کونے میں جلا ہوا مکان جیسے کسی کا انتظار کر رہا تھا۔ ہم ٹوٹے ہوئے شیشوں پر سے چل کر وہاں پہنچے۔

میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ اس علاقے میں حالات معمول پر آ چکے ہیں مگر ہر جگہ ٹوٹے ہوئے شیشے بکھرے ہوئے تھے اور گلیوں میں جلے ہوئے مکانوں کی بو نے گویا ہمیشہ کے لیے یہاں اپنا ڈیرہ جما لیا ہے۔

ایک گلی کے باہر ایک کتا بیٹھا ہوا تھا۔ آس پاس بکھری سیاہی کی وجہ سے اس کا رنگ بھی سیاہی مائل ہو گیا تھا۔

یہ سیاہی صرف اس کتے تک ہی محدود نہیں بلکہ دلی کے اس علاقے پر ایک عجیب سی سیاہی مل دی گئی ہے۔ مکانات کا بیرونی حصہ ہو یا اندرونی حصے یا پھر دکانوں کے شٹر اور دیواریں سب کچھ ایک کینوس کی طرح ہو گئی تھیں جس پر کسی نے موٹے حروف میں لکھ دیا تھا ’نفرت‘۔

ان جلے ہوئے مکانات کو دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ جیسے قیامت کا منظر ہو لیکن اگر قیامت آئی تو خدا کہاں تھا؟

نیو سلیم پور میں دھرنے کے لیے جمع ہونے والی خواتین کو یقین ہے کہ خدا انصاف ضرور کرے گا۔ یہ سب اپنے آپ کو جعفرآباد اور سلیم پور کے مظاہرین کہتے ہیں۔ تقریباً دو ماہ سے یہ سب افراد سڑک کے کنارے خاموشی سے مظاہرہ کر رہے تھے۔

ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت شہریت کے قانون سی اے اے اور این آر سی کی تجویز کو واپس لے۔ شاہین باغ کی تحریک سے متاثر ہو کر ملک کے متعدد حصوں میں اس نوعیت کے مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن جہاں شاہین باغ کو شہرت مل رہی ہے وہیں لوگ ان سارے دھرنوں سے بےخبر ہیں۔

دلت رہنما اور بھیم آرمی پارٹی کے سربراہ چندرشیکھر آزاد نے 23 فروری کو سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف بھارت میں ہڑتال کا مطالبہ کیا تھا جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ حکومتیں ملازمتوں اور ترقیوں میں ریزرویشن دینے کے پابند نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں