82

دلی کا محاصرہ جاری:مودی سرکار خطرے میں ‘کسانوں کا دلی مارچ کے لیے ملک گیر کال دینے پر غور مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو یہ نہ صرف بھارت کی داخلی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے بلکہ مودی سرکار کے لیے بھی شدید خطرات کو سبب بن سکتا ہے. بھارتی ماہرین

دلی کا محاصرہ جاری:مودی سرکار خطرے میں ‘کسانوں کا دلی مارچ کے لیے ملک گیر کال دینے پر غور
مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو یہ نہ صرف بھارت کی داخلی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے بلکہ مودی سرکار کے لیے بھی شدید خطرات کو سبب بن سکتا ہے. بھارتی ماہرین

بھارتی کسانوں کی جانب سے دارالحکومت دلی کا محاصرہ جاری ہے ملک کے مقتدر حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو یہ نہ صرف بھارت کی داخلی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے بلکہ مودی سرکار کے لیے بھی شدید خطرات کو سبب بن سکتا ہے.
ملک میں پہلے سے جاری تحریکیوں اور مودی حکومت کی جانب سے عالمی کارپوریشنزکے مفادات کو ملکی مفادات سے مقدم رکھنے پر ان کے خلاف ملک گیر نفرت بڑھ رہی ہے بی جے پی اتحادی حکومت نے ”خالصتان“اور ”سکھ رجمنٹ“جیسی تنظیموں کے ساتھ تحریک کو جوڑنے کی سرتوڑکوشش کی مگر ان بھارتی ذرائع ابلاغ نے ہی کسانوں کے احتجاج میں شریک ہندوکسانوں کے انٹرویو کرکے حکومت کی کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے.

عالمی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ تحریک مودی حکومت کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتی ہے ‘ بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ سال منظور کیے گئے متنازع زرعی قوانین کے خلاف ہریانہ اور اتر پردیش سے متصل دارالحکومت دہلی کی سرحدوں پر ہزاروں کسانوں کے احتجاجی دھرنوں کو دو ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن اب بھی اس مسئلے کے حل کی بظاہر کوئی امید نظر نہیں آ رہی ہے.
حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات کے 11 ادوار ہو چکے ہیں، لیکن اس بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت تینوں متنازع قوانین واپس لے تو ہی احتجاج ختم ہو گا جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قوانین واپس نہیں لے گی البتہ ان میں مذاکرات کے ذریعے ترامیم کر سکتی ہے حکومت نے ان قوانین کو ڈیڑھ سال کے لیے معطل کرنے کی بھی پیش کش کی ہے جسے کسانوں نے مسترد کر دیا ہے.
اسی درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلی بار اس معاملے پر لب کشائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اب بھی بات چیت کے لیے تیار ہے اور وزیرزراعت محض ایک فون کال کی دوری پر ہیں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرے. بھارت کی سینئر تجزیہ کار رادھیکا راما سیشن کہتی ہیں کہ یوم جمہوریہ پر جو کچھ ہوا اس کی روشنی میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ داخلی سلامتی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے‘ کسانوں کا الزام ہے کہ ان کی پرامن ریلی میں کچھ ایسے عناصر داخل ہو گئے تھے جنہوں نے تشدد کو ہوا دی تاکہ ان کی تحریک کو بدنام کیا جا سکے انہوں نے حکومت اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگ شروع سے ہی یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ کسانوں کے احتجاج کو خالصتانی اور ماﺅ نواز عناصر کی حمایت حاصل ہے حالاں کہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور بغیر ثبوت کے ایسے الزامات عائد نہیں کیے جانے چاہئیں.
رادھیک نے غیرملکی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب ایک سرحدی ریاست ہے اور ملک دشمن عناصر وہاں گڑبڑ کرانے کی تاک میں رہتے ہیں اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ لچک دار رویہ اختیار کرے اور اس مسئلے کو حل کرے سینئر تجزیہ کار ہرویر سنگھ کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ تحریک کے دوران ایسے ملک دشمن عناصر سرگرم ہو گئے ہوں جو ملک کی سیکورٹی کے لیے بھی خطرہ ہوں اور کسانوں کی تحریک کو بھی نقصان پہنچا رہے ہوں.
انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بات کا پتا لگائے اور اگر ایسے عناصر سرگرم ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کرے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے بھی کہا ہے کہ پنجاب ایک سرحدی ریاست ہے یہاں کسی بھی قسم کا تناﺅ اچھی بات نہیں ہے لیکن بہر حال 26 جنوری کو جو واقعات پیش آئے ان سے خدشات ضرور جنم لیتے ہیں. مقامی جریدے کے ایڈیٹر ہرتوش سنگھ بل نے الزام لگایا کہ یہ حکومت خود داخلی سلامتی کے لیے خطرہ ہے کیوں کہ اگر حکومت ملکی مفادات کے بجائے اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دینے لگے تو سیکیورٹی کے مسائل تو پیدا ہو ہی جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ کسانوں کی تحریک سے اندرونی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے کسان تو زرعی قوانین کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور حکومت اور اس کے وزرا خالصتان کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو اس سے ظاہر ہے کہ حکومت خود داخلی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ مودی سرکار کو اندازاہ نہیں کہ یہ بحران ان کی حکومت کا خاتمہ بھی کرسکتا ہے.
صحافی وتجزیہ نگار وویک شکلا کہتے ہیں کہ ملک دشمن عناصر ایسی تحریکوں میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں 26 جنوری کو ہزاروں ٹریکٹر پرامن انداز میں نکل رہے تھے لیکن کچھ لوگوں نے لال قلعہ پر چڑھائی کر دی اور وہی واقعہ خبر بن گیاانہوں نے کہا کہ پرامن انداز میں نکلنے والے ٹریکٹروں کی ریلی کا ذکر کوئی نہیں کر رہا صرف لال قلعے پر چڑھائی کی بات ہو رہی ہے لہٰذا اس کا خدشہ تو ہے کہ اگر فوری طور پر یہ مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو سلامتی کی صورتِ حال خراب ہو سکتی ہے.
تحریک کے آغازپر حسب سابق مودی سرکار نے پاکستان اور چین پر اس کا الزام عائد کیا تھا تاہم بھارت کے اپنے ذرائع ابلاغ اسے ملک کے اندر سے اٹھنے والی تحریک قرار دے رہے ہیں اس سلسلہ میں رادھیکا راما سیشن کہتی ہیں کہ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اس میں پاکستان کا ہاتھ ہے یا چین کا اس کا کسی کے پاس بھی کوئی ثبوت نہیں ہے لہذا بغیر ثبوت کے ایسے الزامات لگانے بھی نہیں چاہئیں‘ہرتوش بل کا بھی کہنا ہے کہ بیرونی طاقتوں کے ملوث ہونے کا الزام بالکل بے بنیاد ہے یہ کسان لوگ ہیں ان کا باہر سے کیا تعلق حکومت نے غلط قوانین بنائے ہیں جن کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے اپنی غلطیوں کو چھپانے اور تحریک کو بدنام کرنے کے لیے ایسے الزامات لگائے جا رہے ہیں.
ہرویر سنگھ کا کہنا ہے کہ غیر ممالک میں جو سکھ اور دوسرے آباد ہیں وہ احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں غیر سکھ افراد نے بھی حمایت کی ہے غیر ملکی میڈیا میں بھی خاصی کوریج ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سفارتی سطح پر بھارت کے لیے پریشان کن ہیں اسی لیے جب کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے احتجاج کی حمایت میں بیان دیا تھا تو حکومت نے اس پر سخت ردِ عمل ظاہر کیا تھا.
برطانوی پارلیمنٹ میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا اور بعض ارکان نے کسانوں کے احتجاج کی حمایت کی تھی یہ تحریک کسانوں کی ہے جس کے لیے بیرون ممالک مقیم بااثر سکھ راہنماءحکومتوں اور عالمی اداروں کی اس تحریک کے حق میں حمایت حاصل کررہے ہیں جبکہ بھارتی سرکار اس پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے حکمران جماعت کو بتانا چاہیے کہ عالمی کارپوریشنزسے کیا فوائد کیئے گئے ہیں؟انہوں نے کہا کسانوں یا ملک کے عوام کو تو اس سے کوئی فائد ہ نہیں پہنچا تو پھر فائدہ اٹھانے والے پردہ نشین کون ہیں؟انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کی مجرمانہ خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ وہ بھی مستقبل کی انویسٹمنٹ کے طور پر ان عالمی کارپوریشنزکے خلاف لب کشائی پر تیار نہیں .
ہرویر سنگھ کے خیال میں ممکن ہے کہ کچھ علیحدگی پسند طاقتیں اس احتجاج کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہوں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لوگوں کی اکثریت نے کسانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر احتجاج کی حمایت کی ہے لیکن وویک شکلا لدھیانہ سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ رونیت سنگھ بٹو کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا ہے کہ اس احتجاج میں کچھ خالصتانی عناصر شامل ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کی تحقیق کرے اور پتا لگائے کہ کیا واقعی ایسا ہے اگر اس الزام میں سچائی ہے تو حکومت کارروائی کرے ورنہ کسانوں سے معافی مانگی جائے.
سکھ کسان اتحاد کے راہنماﺅں کا کہنا ہے کہ تحریک کو بدنام کرنے اور عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے حکومت اور سکھ دشمن کانگریس پارٹی ایک غیرسیاسی تحریک کا تعلق علیحدگی پسندوں سے جوڑ رہی ہے تاکہ کسان دفاعی پوزیشن پر جاکر اپنے مطالبات سے دستبردار ہوجائیں قبل ازیں بھارت کی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے پچھلے دنوں خالصتان حامی تنظیم ”سکھ فار جسٹس“ سے تعلق کے الزام میں متعدد کسان راہنماﺅں کو نوٹس جاری کیے تھے جن میں ایک پنجابی ایکٹر و گلوکار دیپ سدھو بھی شامل ہے رادھیکا راما سیشن کہتی ہیں کہ کسانوں اور حکومت کے درمیان بہت زیادہ بد اعتمادی پیدا ہو گئی ہے اگرچہ حکومت نے ڈیڑھ سال کے لیے قوانین پر عمل درآمد روک دینے کی پیش کش کی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کس بات پر دونوں میں اتفاق ہوگا کسان قوانین کے خاتمے پر زور دے رہے ہیں اور حکومت اس کے لیے تیار نہیں انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان خلیج اتنی وسیع ہو گئی ہے کہ مصالحت کی امید کم ہے.
ہرویر سنگھ کا کہنا ہے کہ 26 جنوری کے واقعے کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ بات چیت کے امکانات ختم ہو گئے ہیں لیکن اب جب کہ احتجاج میں نئی شدت پیدا ہوئی ہے اور احتجاج میں کسانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے تو حکومت پھر بات چیت کے لیے مجبور ہو گئی ہے اب حکومت بھی یہی چاہتی ہے کہ کسی طرح اس مسئلے کو حل کیا جائے لیکن اب بہت دیر ہوچکی ہے انہوں نے بتایا کہ دلی کے ہاہر تینوں احتجاجی کیمپوں میں کسانوں کی تعداد ہردن بڑھتی جارہی ہے اور اگر کسانوں نے دلی مارچ کے لیے ملک گیر کال دیدی تو پھر بی جے پی اتحادی حکومت کے لیے اپنا وجود قائم رکھنا ناممکن ہوجائے گا‘انہوں نے کہا کہ پارلیمان اور سپریم کورٹ کورٹ کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے اعلی عدالتیں چاہتیں تو کسانوں کی درخواست پر فیصلہ دے سکتی تھیں مگر انہوں نے درخواستوں کو سنے بغیر رد کرکے جانبداری کے تاثر کو تقویت پہنچائی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں