38

دنیا سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان کے حالات بہتر ہیں، وزیراعظم عمران خان

کورنا وائرس کی وبائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ باقی دنیا سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان کے حالات بہتر ہیں۔وزیراعظم عمران خان کا کورونا وائرس اور اس کے پاکستان پر اثرات بارے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ میں اب تک کی صورتحال سے عوام کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پاکستان میں اموات کم ہے۔ دیگر دنیا سے مقابلہ کیا جائے تو ہمارے ملک کے حالات ان سے بہتر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز ان کی ایرانی صدر حسن روحانی جبکہ آج مصر کے صدر عبدالفتح السیسی سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ خطے میں سب سے زیادہ ایران میں جانی نقصان ہوا۔ ایران نے شادی تقریبات، سکول، کالجز اور یونیورسٹیوں کے علاوہ سارا کاروبار کھول دیا ہے۔ جبکہ مصر اور پاکستان کا لاک ڈاؤن ایک جیسا ہی ہے۔ اس نے بھی پاکستان کی طرح بیرون ملک سے قرضے لیے ہوئے ہیں۔ مصر میں پہلے دن سے سکول، کالجز، یونیورسٹی اور بڑے اجتماعات کو بند کر دیا گیا تھا مصر نے کوشش کی دہاڑی دار طبقہ متاثر نہ ہو۔عمران خان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں، ہم انھیں واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ بیرون ملک تعینات سفیروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ مشکل وقت میں پاکستانیوں کا خیال رکھیں۔ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وائرس کب تک چلے گا، ویکیسن آنے تک سوچ سمجھ کر آگے چلنا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ اللہ کا شکر ہے پاکستان میں کافی چیزیں بنانا شروع کر دی ہیں۔ دنیا کے مقابلے میں سستے وینٹی لیٹرز بننا شروع ہو گئے ہیں جبکہ کئی چیزوں کو ایکسپورٹ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔اس سے قبل وزیراعظم نے کامسٹیک میں طبی مصنوعات کی نمائش کا دورہ کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں طبی آلات بنانے کے اقدام پر فواد چودھری اور زبیدہ جلال کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ کامسیٹک میں ماضی میں ٹیکس کی رقم سے صاحب اقتدار لوگوں کا علاج ہوتا تھا، وزارت سائنس ملک کو آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے، کورونا کے بعد وینٹی لیٹر بنانے کا سوچا۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتا، وائرس غریب بستی میں پھیلے گا تو امیروں کے گھروں میں بھی جائے گا۔ ماضی میں‌ ٹیکس کی رقم سے امیروں ‌کا علاج ہوتا تھا۔ مودی اتنا ڈرپوک نکلا کہ کورونا کی وجہ سے ملک بند کردیا، غریب کا نہیں سوچا۔انہوں نے کہا کہ خود پر یقین رکھنے والی قومیں آگے بڑھتی ہیں، خود اعتمادی لوگوں کومشکلات سے لڑنا سکھاتی ہے، نبی کریمؐ کی سنت پرعمل پیرا ہونے میں ہی کامیابی ہے، ریاست مدینہ میں لوگوں کو خود پر یقین کرنا آ گیا تھا، مدینہ کی ریاست کا نمونہ سب کیلئے بہترین مثال ہے۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان 60 کی دہائی میں ترقی کی جانب گامزن رہا، ہم نے ماضی میں تعلیم اور ریسرچ پر پیسہ خرچ نہیں کیا، ماضی میں ملکی پیداواری صلاحیت کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ شوکت خانم ہسپتال بناتے وقت ہماری حوصلہ شکنی کی گئی، ہمیں کہا گیا ہسپتال نہیں بن سکتا لیکن ہم نے خود اعتمادی سے بنا کر دکھایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں