98

دُبئی میں کورونا کیسز بڑھنے کے بعد پابندیاں سخت کر دی گئیں پب اور بارز بند کر دی گئیں، شاپنگ مالز، ہوٹلز اور دیگر تفریحی مقامات پر لوگوں کی گنجائش 70 فیصد تک محدود کر دی گئی

دُبئی میں کورونا کیسز بڑھنے کے بعد پابندیاں سخت کر دی گئیں
پب اور بارز بند کر دی گئیں، شاپنگ مالز، ہوٹلز اور دیگر تفریحی مقامات پر لوگوں کی گنجائش 70 فیصد تک محدود کر دی گئی

دُبئی میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کورونا کیسز کی گنتی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو اہے ، جس کے بعد حکام نے کئی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ دُبئی حکومت کی جانب سے مزید پابندیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے جن کا نفاذ آج 2 فروری سے 28 فروری تک ہو گا۔ نئی پابندیوں کے تحت تمام پب اور بارز بند کر دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ شاپنگ مالز، ہوٹلز، تفریح گاہوں اور دیگر عوامی مقامات پر بھی افراد کی گنجائش کم کر کے 70 فیصد تک محدود کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ پابندیاں ایک ماہ تک نافذ العمل رہیں گی جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
۔ تمام ہوٹلز میں لوگوں کی گنجائش 70 فی صد تک محدود کر دی گئی ہے۔
۔ شاپنگ مالز اور خریداری کے تمام مراکز میں کُل گنجائش کے مقابلے میں صرف 70 فیصد افراد کے داخلے کی اجازت ہو گی۔
اس گنجائش سے تجاوز کرنے کی اجازت ہرگز نہیں ہو گی۔ اگر کسی وقت میں رش زیادہ بڑھنے کا خدشہ ہو تو پھر لوگوں کی کچھ گنتی کو باہر روک لیا جائے گا۔
۔ تمام عمارتوں شرکاء کی گنتی کو 50 فیصد تک محدود کر دیا گیا ہے، جن میں سینما گھر، انڈور سپورٹس مقامات اور دیگر تفریحی مراکز شامل ہیں۔
۔ تمام ریسٹورنٹس اور کیفے رات ایک بجے بند کر دیئے جائیں گے اور یہاں پر کسی قسم کی تفریحی سرگرمی یا پروگرام منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

دُبئی میونسپلٹی اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے شاپنگ مالز، تفریحی و سیاحتی مقامات، ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور سپورٹس کی سرگرمیوں کے مقامات پر نئی پابندیوں کی نگرانی کے لیے انسپکشنز کی جائیں گی۔ فیس ماسک نہ پہننے اور سماجی فاصلے کی پابندی نہ کرنے پر بھاری جرمانے عائد ہوں گے۔ اس کے علاوہ 70 فیصد تک گنجائش کی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کاروباری مراکز کے مالکان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ دُبئی ہیلتھ اتھارٹی نے چند روز قبل تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں غیر ضروری آپریشنز ایک ماہ کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جو 18 جنوری سے 18 فروری تک ملتوی رہیں۔ صرف ہنگامی نوعیت کی سرجریز اور میڈیکل آپریشنز کرنے کی اجازت ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں