27

ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کم کرنے کے تین آزمودہ طریقے

دنیا بھر میں ایک جانب تو کورونا وبا کا خوف جاری ہے اور دوسری جانب لوگ روزگار اور آنے والے مسائل کی وجہ سے بھی پریشان ہیں۔ اس تناظر میں مائنڈ فلنیس اوراس سے وابستہ کئی طریقے ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کو کم کرسکتے ہیں۔مائنڈ فلنیس میں ہم احساسات کا ادراک اس طرح کرتے ہیں کہ ان کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کرتے۔ اس میں ہم صرف حال کی کیفیت، خیالات اور احساسات کا ادراک کرتے ہیں۔ اس طرح ہم موجودہ صورتحال کے تحت اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں اور اس کے بہت سے فوائد سامنے آتے ہیں۔بہت سے لوگ یوگا تائی چی اور جی گونگ کی مشقیں کرتے ہیں اور اسے مائنڈفلنیس قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ بہترین طریقے ہیں لیکن تیزقدموں سے چلنا، سائیکل چلانا، تیراکی کرنا اور ایسے دیگر مشاغل بھی مائنڈفلنیس میں اس وقت تک شمار ہوں گے جب تک آپ اطراف کی چیزوں کو خود پر حاوی نہ کرلیں۔ اندرونی اور بیرونی، دونوں طریقے سے اپنے کام کی رفتار، حرکات، سانس لینے کے عمل اور اپنے راستے پر ہی توجہ رکھیں۔ اس طرح یکسو ہوکر یہ کام کیجئےتو اس سے تناؤ میں کمی واقع ہوگی۔مراقبے بہت سی طرح کے ہوتے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے سادہ اور بھرپور رکھا جائے۔اس کا بہترین طریقہ پرسکون نماز ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ اسی لیے نماز دماغی سکون پہنچانے کا بہترین طریقہ بھی ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گھر کے پرسکون گوشے میں 10 سے 15 منٹ کے لیے پرسکون انداز میں بیٹھ جائیں۔ پٹھوں اور جوڑوں پر سے دباؤ کم کرکے پرسکون انداز اختیار کیجئے۔پیر کے انگوٹھے سے پٹھوں کو تناؤ اور آرام میں لایئے اور اسے بڑھا کر پورے جسم پر لاگو کیجئے۔ اس دوران گہری اور ہموار سانس پر توجہ دیجئے۔ اس ضمن میں یوٹیوب پر بھی بہت سی مشقیں موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔سانس لینے کا عمل زندگی کے لیے بہت ضروری ہے صرف دس منٹ کی مائنڈ فلنیس سانسیں پورے جسم پر خوشگوار اثر ڈالتی ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ سانس کو گہرائی تک لے کر پیٹ تک لے جائیں اور دھیرے دھیرے سانس باہر نکالیں۔ ہر آتی اور جاتی سانس میں ہر پٹھے کو سکون میں لائیں اور پوری توجہ سانس لینے پر مرکوز رکھیں ۔ خیالات کی یلغار سے بچنے کی کوشش کیجئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں