NAWAZ SHARIF 90

ریاست کے خلاف اکسانے کا الزام‘لاہور میں نوازشریف اور مریم نوازکے خلاف مقدمہ درج

لاہور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا‘ نواز شریف کے خلاف لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں مقدمہ درج کیا گیا جہاں مسلم لیگ( ن) کے دیگر راہنماﺅں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے. نواز شریف کے خلاف مقدمہ شہری بدر کی مدعیت میں درج کیا گیا مقدمے کے متن کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف نے تقریر میں عوام کو اکسایا اور نواز شریف نے تقاریر میں بھارت کی ڈکلیئر پالیسی کی تائید کی.
مقدمے میں مسلم لیگ( ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، خرم دستگیر، احسن اقبال، شیخ آفتاب، پرویز رشید اور راجہ ظفر الحق کو بھی نامزد کیا گیا ہے‘مقدمے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، امیر مقام، ذکیہ شاہ، طلال چودھری اور دیگر رہنما بھی نامزد کیے گئے ہیں. سابق وزیراعظم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر راہنماﺅں کے خلاف درج ایف آئی آر میں 120 اے اور بی 121 اے اور بی ، 123 اے اور بی ، 124 اے اور بی و دیگر دفعات لگائی گئی ہیں.
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے لندن میں بیٹھ کر سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کے مقتدر اداروں کو بدنام کرنے کے لئے اشتعال انگیز تقاریر کیں ان کی تقاریر کا مقصد پاکستان کو بدمعاش ریاست قرار دلانا ہے. دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی تقاریر پر پابندی کی درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے درخواست پر سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی، درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ نواز شریف نے اپنی 20 ستمبر کی تقریر میں ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی.
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اس سے درخواست گزار کا کون سا بنیادی حقوق متاثر ہوا ہے، سیکورٹی ادارے موجود ہیں اس ملک میں ایک پارلیمنٹ بھی موجود ہے ، عدالت کو سیاسی نوعیت کے معاملات میں کیوں ملوث کرنا چاہتے ہیں؟. عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پیمرا کا کوئی قانون موجود ہے؟ جب پیمرا نے نوٹس بھیج رکھا ہے تو آپ یہاں کیوں آگئے عدالت نے نواز شریف کی تقاریر پر پابندی کے لیے دائر درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا‘واضح رہے کہ گزشتہ روز نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف بھی گوجرانوالہ میں بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں