79

سعودی عرب اور کورونا وائرس: وبا سے نمٹنے کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس تین گنا بڑھا دیا، رہائشی الاؤنس بھی معطل

سعودی عرب نے کورونا وائرس سے متاثرہ معیشت کی بحالی کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) تین گنا بڑھانے اور سرکاری ملازمین کو ملنے والے رہائشی الاؤنس کو معطل کرنے کے ’تکلیف دہ‘ فیصلے کیے ہیں۔

عالمی وبا اور بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی طلب اور قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے سعودی عرب کی آمدن میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کا شمار تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب نے دو سال قبل وی اے ٹی متعارف کرایا تھا تاکہ یہ اپنی معیشت کا خام تیل کی عالمی منڈیوں پر انحصار کم کر سکے۔سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق 1 جولائی سے وی اے ٹی 5 فیصد کے بجائے 15 فیصد ہوجائے گا۔ جبکہ 1 جون سے رہائشی الاؤنس بھی معطل کر دیا جائے گا۔ اس ایمرجنسی منصوبے سے 26.6 ارب ڈالر کے اضافے کا امکان ہے۔

وزیر خزانہ محمد الجدان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ: ’یہ اقدامات تکلیف دہ ہیں لیکن یہ ضروری اس لیے ہیں تاکہ درمیانے اور لمبے عرصے کے لیے مالی اور معاشی استحکام حاصل کیا جاسکے۔۔۔ اور کورونا وائرس کے بحران پر کم سے کم نقصان کے ساتھ قابو پایا جاسکے۔انھوں نہ یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کی کفایت شعاری مہم کے تحت کچھ اداروں کے اخراجات کو ’معطل، ملتوی یا اس کی توسیع‘ کی جا رہی ہے۔ ویژن 2030 کے اصلاحاتی پروگرام کے منصوبے کے اخراجات بھی کم کیے گئے ہیں۔

اس کفایت شعاری مہم سے عوامی سطح پر ناراضی دیکھی جاسکتی ہے کیونکہ ملک میں پہلے ہی نئے اربوں ڈالروں کے منصوبوں کی وجہ سے رہن سہن کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ اس دوران انگلش فٹبال کلب نیوکاسل یونائیٹڈ خریدنے کی بھی تجاویز سامنے آئی ہیں۔

ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو 30 دن کے اندر سرکاری افسران اور ٹھیکیداروں کو ملنے والی مراعات کا جائزہ لے گی اور اپنی تجاویز دے گی۔

یونیورسٹی آف کیمبریج کے پروفیسر جان کا کہنا ہے کہ ‘بڑے معاشی بحران میں وی اے ٹی تین گنا بڑھا کر آمدن اور اخراجات میں توازن لانا ایک آزمائش ہوگی۔۔۔ یہ کفایت شعاری اور آمدن بڑھانے کے اقدامات ہیں، نہ کہ پیداوار بڑھانے کے۔’

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے کہ جب ملک میں اخراجات آمدن سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران سعودی عرب میں بجٹ کا خسارہ نو ارب ڈالر رہا۔

یہ تب ہوا جب گذشتہ سال اسی دورانیے کے مقابلے رواں سال تیل سے ہونے والی آمدن تقریباً ایک تہائی رہ گئی اور اس میں 34 ارب ڈالر کا فرق دیکھا گیا۔ اس کی وجہ سے کل آمدن میں 22 فیصد کمی واقع ہوئی۔

معاشی ماہر حسنین ملک کے مطابق وی اے ٹی بڑھانے سے تیل کے علاوہ آمدن میں 24 سے 26.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا جس سے لوگوں کی پیسے خرچ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی لیکن معاشی استحکام ملے گا۔

اسی دوران سعودی عرب کے مرکزی بینک میں غیر ملکی ذخائر کم ہوگئے ہیں۔ مارچ میں یہ گذشتہ دو دہائیوں کے مقابلے سب سے زیادہ رفتار سے گِرے اور سنہ 2011 کے بعد سے اپنی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئے۔

خیال ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام اور اس سے مقابلے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی وجہ سے سعودی شہزادے محمد بن سلمان کی جانب سے متعارف کردہ معاشی اصلاحات کی رفتار اور وسعت پر اثر پڑے گا۔

گذشتہ سال ریاض کی سٹاک مارکیٹ میں سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل کی کمپنی آرامکو کے حصص کی قدر میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اس بڑی کمپنی نے اپنے حصص کی فروخت کے دوران 25.6 ارب ڈالر کمائے تھے۔

یاد رہے کہ آرامکو عالمی سطح پر خام تیل کا دسواں حصہ پیدا کرتی ہے۔

حصص کی فروخت سعودی شہزادے محمد بن سلمان کے معاشی منصوبے کا اہم حصہ تھی۔ سعودی شاہی خاندان نے آرامکو کے حصص کی فروخت اس لیے کی تاکہ تیل پر انحصار کم سے کم کیا جا سکے اور معیشت کو جدید طرز پر لایا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں