29

سعودی عرب : کم عمری میں سنگین جرائم کے مرتکب افراد کی سزائے موت ختم کرنیکا فیصلہ

سعودی عرب نے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 18 سال سے کم عمر میں سنگین جرائم کے مرتکب افراد کی سزائے موت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے شاہی فرمان جاری کردیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں گزشتہ کچھ عرصہ سے عدالتی اصلاحات کی جارہی ہیں اور ایک ہفتے میں یہ دوسری بڑی سزا ہے جو ختم کی جارہی ہے۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے جنرل کمیشن برائے سپریم کورٹ نے تعزیر کے مقدمات میں کوڑوں کی سزائیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اب تعزیری جرائم کے مرتکب افراد کو قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی لیکن انھیں کوڑے نہیں مارے جائیں گے۔سعودی عرب کے انسانی حقوق کمیشن کے صدر عواد العواد نے نئے شاہی فرمان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی فرد (مرد یا عورت) نے نوعمری میں کسی سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا اور اس کو سزائے موت سنائی گئی تھی تو اب اس سزا پر عمل درآمد نہیں ہوگا اور اس کا سرقلم نہیں کیا جائے گا۔اس کے بجائے اس کو دس سال تک قید کی سزا سنائی جائے گی۔تعزیر کے زمرے میں ایسے جرائم آتے ہیں جن کی شریعت اسلامی میں سزا(حد) مقرر نہیں اور قاضی (جج) کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اجتہاد کے ذریعے ان کی سزاؤں کا تعیّن کرسکتا ہے۔سعودی محقق فہد الشوقیران نے عدالتی اصلاحات کے بارے میں العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکام سعودی عرب کے ویژن 2030ء کے مطابق تعزیرکے تصور اور اس کی سزاؤں میں اصلاحات کررہے ہیں۔ کوڑے مارنے کی سزا کاخاتمہ اور تعزیر کے تصور پر نظرثانی کا بہت سے سعودیوں نے خیر مقدم کیا ہے۔سعودی وکیل کا کہنا ہے کہ مملکت میں کوڑے مارنے کی سزا کا یکسانیت کے ساتھ نفاذ نہیں کیا جارہا تھا، مختلف عدالتیں کوڑوں کی مختلف سزائیں دے رہی تھیں اور بعض اوقات تو بہت سخت سزا سنائی جاتی تھی اور ان پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا تھا۔سعودی عرب کے انسانی حقوق کمیشن نے کوڑوں کی سزا کے خاتمے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے یہ ایک اہم عدالتی اصلاح ہے جس کا شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد کی براہِ راست نگرانی میں نفاذ کیا گیا ہے۔عواد العواد کا کہنا ہے کہ یہ اصلاح سعودی عرب میں انسانی حقوق کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔یہ گزشتہ پانچ سال کے دوران میں کی جانے والی انسانی حقوق کی ستر اصلاحات میں سے ایک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس اصلاح سے سعودی عرب میں مقیم شہریوں اور مکینوں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے،خواتین ، ورکروں ، نوجوانوں اور ضعیف العمر افراد سمیت سب کا معیار زندگی بلند ہوگا۔ان کے بقول مملکت میں ایک عرصے سے اس بات پر اتفاق رائے پایا جارہا تھا کہ کوڑوں کی سزا موجودہ صورت حال سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی ہے۔بہت سے مقدمات میں تو جج صاحبان خود ہی قانون کی تشریح کرتے ہوئے ملزموں کو کوڑے مارنے کی سزا سنارہے تھے۔فہدالشوقیران کا کہنا تھا کہ بہت سے کیسوں میں قید اور جرمانہ یا دونوں سزائیں ہی مناسب ہیں اور اس کا انحصار جرم کی نوعیت پرہے۔اس سے پہلے اگر کسی کو کوڑوں کی سزا دی جاتی تھی تو اس کے نفاذ میں سختی نہیں کی جانی چاہیے تھی لیکن اس کا بھی انحصار اس بات پر ہوتا تھا کہ سزا پر عمل درآمد کون کررہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں