42

سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار خواتین ریسلنگ مقابلے کا انعقاد

ریاض ۔ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کے ریسلنگ مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کو ہونے والے مقابلے میں خواتین ریسلرز روایتی ریسلنگ کاسٹیومز کے بجائے دونوں خواتین ریسلرز نے مکمل جسم ڈھانپنے والے ڈھیلے ڈھالے لباس پہن کر شریک ہوئیں، جس سے ان کا جسم مکمل طور پر ڈھکا ہوا نظر آرہا تھا۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ فہد اسٹیڈیم میں ہونے والے ریسلنگ مقابلے میں ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ (ڈبلیو ڈبلیو ای) کی خواتین سپر اسٹار نتالیہ نیڈہارٹ اور لیسی ایوینز مدمقابل تھیں۔ دونوں خواتین ریسلرز کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہوا لیکن جیت نتالیہ نیڈہارٹ کے نام رہی۔ سعودی عرب میں خواتین کے پہلے ریسلنگ مقابلے سے متعلق ڈبلیو ڈبلیو ای نے کہا ہے کہ نتالیہ نیڈہارٹ، لیسی ایوینز اور ڈبلیو ڈبلیو ای کے لیے یہ ناقابلِ فراموش رات ہے۔

ریاض میں ہونے والا ریسلنگ مقابلہ دیکھنے کے لیے شائقین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ نتالیہ نیڈہارٹ اور لیسی ایوینز کے لباس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں خواتین ایسا ہی لباس پہن کر ریسلنگ کرسکتی ہیں۔ سعودی حکومت کا یہ اقدام بھی ملک میں انٹرٹینمنٹ پر عائد پابندیوں میں نرمی برتنے کی طرف ایک نیا قدم ہے۔ سعودی عرب میں یہ تبدیلیاں ولی عہد محمد بن سلمان کے معاشی اور سماجی ایجنڈے کے تحت کی جا رہی ہیں، جسے مغربی ممالک کی جانب سے خاصی پذیرائی بھی مل رہی ہے۔
سعودی عرب کی قومی آمدنی کا زیادہ انحصار تیل کی فروخت پر ہے۔ لیکن اب حکومت سیاحت کے ذریعے بھی زرمبادلہ کمانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب 2030 تک غیر ملکی سیاحوں کی سالانہ آمدورفت 10 کروڑ تک لے جانا چاہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں