ig sindh 34

سندھ پولیس نے تصدیق کر دی کہ آئی جی سندھ کا اغوا نہیں ہوا

کراچی سینئر صحافی کے مطابق سندھ پولیس نے تصدیق کر دی کہ آئی جی سندھ کا اغوا نہیں ہوا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے نامور اور سینئر صحافی و تجزیہ کار کامران خان کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغامات میں آئی جی سندھ مبینہ اغوا کے معاملے کی تحقیقات کے حوالے سے بڑا دعویٰ کیا گیا ہے۔

کامران خان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے زبیر صاحب، مریم بی بی کو جذبات میں نہ جانے کیا بتا دیا یا یہ دونوں جذبات میں بہہ گئے۔ سندھ پولیس نے تصدیق کردی ہے اغوا وغیرہ کچھ نہیں ایس ایچ او نے جذبات میں بہہ کر جھوٹی ایف آئی آر درج کردی تھی۔ کامران خان کا کہنا ہے کہ اطمینان کی بات ہے نہ صرف بلاول بھٹو نے میاں نواز مریم فوج مخالف بیانئیے کے تابوت میں آخری کیل اپنے ہاتھوں سے ٹھونک دی بلکہ اب کیپٹن صفدر معاملے میں آئی جی اغوا مخالف بیانئیے کو بھی دفن کرتے ہوئے جھوٹا مقدمہ درج کرنے کی ذمہ داری بھی سندھ پولیس نے اپنے ہی سر لے لی ہے۔
واضح رہے کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر و دیگر کے خلاف مزار قائد بے حرمتی کیس جھوٹا قرار دیا گیا ہے۔ پولیس نے تفتیش کے بعد مریم نواز اور ان کے شوہر کے خلاف مزار قائد کی بے حرمتی کا کیس جھوٹا قرار دیا۔ پیر کے روز پولیس نے استغاثہ کے اعتراضات دور کر کے حمتی چالان عدالت میں جمع کروا دیا۔ مقدمے سے املاک کو نقصان پہنچانے اور جان سے مارے کی دھمکیوں کے الزمات بھی خارج کر دئیے گئے۔

محکمہ پراسیکیوشن نے پولیس چالان سے اتفاق کرتے ہوئے چالان کو بی کلاس کر دیا۔چالان کے مطابق مریم نواز کی مزار قائد پر حاضری کے وقت مزار عام شہریوں کے لیے بند تھا۔جب کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں مدعی مقدمہ موجود نہیں ہے۔کال ڈیٹا ریکاڑد کے مطابق مدعی مقدمے کے واقعے کے وقت مزار قائد پر موجود نہیں تھا،استغاثہ نے اسکرونٹی نوٹ میں یہ بھی کہا کہ مزار قائد سیفٹی اینڈ مینٹیننس آرڈیننس ہمارے دائر اختیار میں بہیں آتا۔
اگر ایس ایچ او چاہے تو مزار قائد آرڈننس کے لیے براہ راست علحیدہ داخل کر سکتا ہے۔۔چالان کے متن کے مطابق چالان میں قتل کی دھمکیوں کی سیکشن ختم کر دی گئی ہے، کسی بھی قسم کے اسلحے کی کوئی نمائش نہیں کی گئی، سرکاری عمارت کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا، اس لیئے مقدمے سے دفعہ ختم کر دی گئی۔ چالان کے متن میں کہا گیا ہے کہ مدعی مقدمہ کو کئی بار بلایا گیا لیکن انہوں نے بیان نہیں دیا، مریم نواز کے خلاف کوئی شواہد موصول نہیں ہوئے۔چالان کے متن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ کیپٹن (ر)صفدر کے خلاف قائدِ اعظم ایکٹ کے تحت چالان منظور کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں