62

سوشل میڈیا پر ٹرولنگ: ٹوئٹر قوانین پر صارفین کے بڑے جتھے کیسے اثر انداز ہو سکتے ہیں؟

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایک ایسے بازار کی مانند ہے جہاں ہر کوئی اپنی اپنی صدا لگانے میں مشغول ہے۔ سوشل میڈیا معلومات اور اظہار خیال کا ایک ایسا ذریعہ بن چکا ہے جس پر قدغن لگانا یا اسے روکنا مشکل ہے۔

سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارمز ٹوئٹر اور فیس بک نے آزادی اظہار اور اپنے خیالات کو بیان کرنے کے لیے خود سے چند قوانین اور ضابطہ کار مرتب کیے ہیں اور وہ جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے اس ضابطہ کار پر عمل پیرا بھی ہیں۔

لیکن بعض اوقات یہ ضابطہ کار اصل صارف یا اکاؤنٹ کے لیے مشکل بھی پیدا کر دیتے ہیں جب ان کی جانب سے کی گئی کسی ٹویٹ یا پوسٹ پر انھیں ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا ان کی ٹویٹس کو بڑی تعداد میں رپورٹ کیا جائے اور ان کا اکاؤنٹ معطل کر دیا جائے۔

حال ہی میں ایسا ہی پاکستانی صحافی عمر چیمہ کے ساتھ ہوا جب ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی گئی ایک ٹویٹ پر بڑے پیمانے پر عوامی ردعمل آیا اور ان کا اکاؤنٹ ٹوئٹر کی جانب سے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔

ان کی ٹویٹ میں بظاہر ایسا کچھ نہیں تھا جو ٹوئٹر کے ضابطہ کار کے خلاف ہو اور ان کا اکاؤنٹ بڑی تعداد میں سوشل میڈیا صارفین کی شکایات کی وجہ سے معطل کیا گیا تاہم ایک دن بعد ٹوئٹر انتظامیہ نے ان کا اکاؤنٹ بحال بھی کر دیا۔

لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ اس سے قبل جب انڈیا نے پانچ اگست کو اپنے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کی تھی تو بہت سے پاکستانی ٹوئٹر صارفین نے انڈیا کے اس اقدام پر سوشل میڈیا پر تنقید کی تھی۔

پاکستانی حکام کے مطابق اس کے بعد انڈیا سے صارفین نے نہ صرف پاکستانی اکاؤنٹس کی ٹویٹس پر ایک مہم کی صورت میں ردعمل دیتے ہوئے ٹرولنگ کی بلکہ ان کے اصلی اکاؤنٹس کو معطل کرنے کی شکایات بھی کیں، جن پر ٹوئٹر کے جانب سے سینکڑوں پاکستانی صارفین کے اکاؤنٹ معطل ہو گئے۔

اس کے بعد پاکستانی صارفین اور پاکستان ٹیلی کمونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹوئٹر انتظامیہ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا۔ پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق کل 333 پاکستانی ٹوئٹر اکاؤنٹس کی بحالی کے لیے ٹوئٹر انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا۔ٹرولنگ کے باعث اکاؤنٹس کی معطلی پر کیا کیا جائے؟

پی ٹی اے کی ڈائریکٹر تعلقات عامہ خرم علی مہران بتایا کہ اگر آپ کو ٹرولنگ کا سامنا ہے اور آپ کا اکاؤنٹ معطل ہو گیا ہے تو سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ صارف خود اس معاملے کو ٹوئٹر انتظامیہ کے ساتھ اٹھائے۔ ’لیکن جیسا کہ کشمیر کے معاملے میں ہوا تھا اس پر ہم نے صارفین سے کہا تھا کہ آپ پی ٹی اے کو اس متعلق آگاہ کریں تاکہ وہ سرکاری سطح پر اس معاملے کو ٹوئٹر انتظامیہ کے ساتھ اٹھائیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں پی ٹی اے پہلے اس ٹوئٹر اکاؤنٹ کے متعلق تفصیلات حاصل کرنے اور جانچ پڑتال کرنے کے بعد ٹوئٹر انتظامیہ سے رابطہ کرتا ہے اور ان کو متعلقہ اکاؤنٹ کے بارے میں اطلاع دی جاتی ہے کہ اس اکاؤنٹ کی معطلی درست نہیں اور ٹوئٹر انتظامیہ سے ان کو بحال کرنے کا کہا جاتا ہے۔ اس ضمن میں پی ٹی اے ٹوئٹر انتظامیہ کو اس صارف کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹ کا متن اور تناظر بھی سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔

ٹرولنگ سے کیسے بچا جائے؟
خرم علی مہران کا کہنا تھا کہ اگر کسی صارف کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی ٹرولنگ ہو رہی ہے یا اس کو کسی بڑے عوامی جھتے کی جانب سے تنگ کیا جا رہا ہے تو اس صارف کو چاہیے کہ وہ خود سے ٹوئٹر کو یا متعلقہ پلیٹ فارم پر اسے رپورٹ کریں۔ اس طرح وہ صارف ٹرولنگ اور اکاؤنٹ کی معطلی سے بچ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے کے پاس بھی شکایات کے اندراج کا نظام موجود ہے اور اگر کسی صارف کو ٹرولنگ اور دیگر مواد سے متعلق کوئی شکایت ہے تو وہ پی ٹی اے سے بھی رابطے کر سکتا ہے اور اس کی شکایت کے حساب سے اس پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کوئی مجرمانہ سرگرمی کی جا رہی ہے تو اس کی شکایت ایف آئی اے کو بھی کر سکتے ہیں۔

ٹوئٹر کا ضابطہ کار
ٹوئٹر کسی بھی صارف کی ایسی ٹویٹ کے ساتھ کیسے نمٹتا ہے جس کو رپورٹ کیا جائے؟ اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے اپنا ایک ضابطہ کار بنایا ہوا ہے۔ اس کے مطابق:

تشدد: آپ کسی فرد یا لوگوں کے گروہ کے خلاف تشدد کی دھمکی نہیں دے سکتے ہیں۔ ٹوئٹر تشدد کو بڑھاوا دینے سے بھی منع کرتا ہے۔
دہشت گردی یا انتہا پسندی کی نفی: ٹوئٹر ایسے مواد کے خلاف ہے جو دہشت گردی یا پرتشدد انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہو۔
بچوں کا جنسی استحصال: ٹوئٹر پر بچوں کے جنسی استحصال کے متعلق کسی بھی قسم کے مواد کو شائع کرنے کی اجازت نہیں۔
ہدف بنا کر ہراساں کرنا: آپ کسی کو ہدف بنا کر ہراساں کرنے میں ملوث نہیں ہو سکتے ہیں، یا دوسرے لوگوں کو ایسا کرنے پر نہیں اکسا سکتے ہیں۔

غیر قانونی سرگرمیاں: ٹوئٹر پر آپ کوئی بھی غیر قانونی یا مجرمانہ سرگرمی میں ملوث نہیں ہو سکتے۔
ذاتی معلومات: ٹوئٹر پر آپ کو اپنی اور خصوصاً کسی اور صارف کی نجی اور ذاتی معلومات دینے کی بھی ممانعت ہے۔
پورنوگرافی: ٹوئٹر غیر اخلاقی مواد یا پورنوگرافی شائع کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والے کارکن اسد بیگ سے پوچھا گیا کہ ٹرولنگ یا بڑے پیمانے پر عوامی رپورٹنگ کے محرکات کیا ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو سب کے لیے ہے لیکن اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہاں فیک یا جعلی اکاؤنٹس ہیں جو ٹوئٹر پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر نے اس کے حل کے لیے ماضی میں ہزاروں فیک اکاؤنٹ بند کیے تھے، جس کے بعد دنیا بھر اور پاکستان میں بہت سے سیاستدانوں اور مقبول شخصیات کے فالورز کی تعداد میں واضح کمی آئی جو واضح کرتا ہے کہ جعلی اکاؤنٹس ٹوئٹر ٹرینڈ پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ ٹرولنگ کا باعث بھی بن رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اپنی مخصوص خامیوں کی وجہ سے ٹوئٹر کا رپورٹنگ نظام صارفین کے بڑے جتھوں کے ہاتھ میں ایک ہتھیار سے کم نہیں اور بدقسمتی سے ٹوئٹر نے اس میں بہتری کے لیے اب تک کوئی خاص اقدام نہیں اٹھائے۔‘

ان کا کہنا تھا ’ٹوئٹر کا دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی صارف کی جانب سے کی گئی ٹویٹ کا سیاق و سباق سمجھے بغیر اپنے رپورٹنگ نظام پر بہت سختی سے عمل کر رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا اس ضمن میں ٹوئٹر کو فیس بک جیسا ماڈل اپنانے کی ضرورت ہیں جہاں ہر قومیت اور ہر زبان کی سمجھ رکھنے والے افراد کام کر رہے ہیں اور ان کو اردو سمیت دیگر زبانوں میں کی جانے والی پوسٹ کی سمجھ اور سیاق و سباق کا اندازہ ہو جاتا ہے جبکہ ٹوئٹر میں اس تنوع کی کمی ہے۔

ٹیکنالوجی امور کے صحافی اور پروجیکٹ ’شکاری‘ سے منسلک شہریار پوپلزئی کا کہنا تھا کہ ’ٹوئٹر کا سب سے بڑا مسئلہ ان کے رپورٹنگ نظام کا ہے کیونکہ شاید ان کے پاس اردو زبان کے موڈریٹر نہیں ہیں اور کئی بار ایسی ٹویٹس پر کوئی عمل نہیں کیا جاتا جو جعلی اکاؤنٹس سے کی جاتی ہیں اور ان میں غلط زبان استعمال کی جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صارفین کو بھی غیر مناسب ٹویٹ یا ’ٹارگٹڈڈ ٹرولنگ‘ کی سمجھ نہیں ہے۔ ان کا مشورہ ہےکہ اگر آپ انٹرنیٹ پر کسی شخص سے کسی بھی معاملے پر الجھ رہے ہیں تو اس اکاؤنٹ کے بارے میں چھان بین کر لیں۔ اس طرح ایسے افراد خود بھی صارفین کے بڑے جتھوں کے ہاتھوں ٹرولنگ کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں