SOCAIL MEDIA 121

سوشل میڈیا کو قانونی دائرے میں لانے کی تیاریاں

اسلام آباد وفاقی حکومت نےسوشل میڈیا کومکمل قانونی دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے، مذہب،ملکی وقار،اداروں اورسیاستدانوں کے خلاف مواد پر پابندی عائد کی جائےگی،مذہبی منافرت پر مبنی نظریاتی اساس ، اور ثقافتی اقدار کے خلاف مواد بلاک کرنے کے لیے متعلقہ کمپنیوں کوپابند کیا جائیگا۔وزارت آئی ٹی کے مطابق ملک میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے رولز مسودہ تیار کرکے کابینہ کمیٹی کو ارسال کر دیا گیا ہے،مسودے میں وزارت آئی ٹٰ کی جانب سے رولز میں کہا گیا ہے کہ مذہب،ملکی وقار،اداروں اورسیاستدانوں مذہبی منافرت پر مبنی نظریاتی اساس ، اور ثقافتی اقدار کے خلاف مواد کی تشہیر کو روکنے کے لیے کمپنیوں کو مکمل پابند کیا جا ئے گا ، پی ٹی اے کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور ان کو مکمل بند کیا جائے گا ۔
وزارت آئی ٹی کا کہنا تھا کہ اس سے آزادی رائے کو کسی بھی قدغن کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، مسودے کے متن کے مطابق پانچ لاکھ سے زائد صارفین رکھنے والے سروس پروئیڈر اور سوشل میڈیا کمپنیاں رکھنے والے کو پی ٹی اے کے ساتھ الحاق کرنا ضروری ہو گا جبکہ پاکستان بالخصوص اسلام آباد میں سے الحاق ضروری ہو گا ، خلاف ورزی کرنے اور غیر اخلا قی مواد اپ لوڈ کرنے والے کے خلا ف پیکا ایکٹ 2016 کے تحت جرمانے اور سزا کی کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔
یوٹیوب ، فیس بک ، لنک ان ، ٹوئٹر ، ٹک ٹاک ، گوگل پلس کسی بھی سوشل میڈیا ویب سائٹ پر ہتک آمیز مواد کی شکایت کی جا سکے گی۔جبکہ پا کستان پینل کوڈ کے سیکشن 292،293،294،504 کے تحت غیر اخلا قی مواد پر پابندی عائد کی جا سکے گی جبکہ غلط معلومات کی تشہیر کو بھی روکا جا ئے گا۔جبکہ رولز کے مطابق سروس پروائیڈر اور سوشل میڈیا نیٹ ورک مالکان کو مواد ہٹانے کے حوالے سے آگاہ کیا جائے اور شکایت کنندہ کا نام بھی صیغیہ راز میں رکھا جائے گا، خیال رہے کہ آئین کا آرٹیکل 19 ملک میں کسی بھی شہری کو آزادی رائے کا حق دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں