36

سیاحت کے فروغ کیلئے ملک میں مشکل ترین موٹروے کی تعمیر کا فیصلہ حکومت نے دیر موٹروے کو سی پیک منصوبے میں شامل کر لیا، منصوبے کو چکدرہ ٹو چترال، چترال ٹو شندور اور شندور ٹو گلگت توسیع دی جائیگی

سیاحت کے فروغ کیلئے ملک میں مشکل ترین موٹروے کی تعمیر کا فیصلہ
حکومت نے دیر موٹروے کو سی پیک منصوبے میں شامل کر لیا، منصوبے کو چکدرہ ٹو چترال، چترال ٹو شندور اور شندور ٹو گلگت توسیع دی جائیگی

سیاحت کے فروغ کیلئے ملک میں مشکل ترین موٹروے کی تعمیر کا فیصلہ، حکومت نے دیر موٹروے کو سی پیک منصوبے میں شامل کر لیا، منصوبے کو چکدرہ ٹو چترال، چترال ٹو شندور اور شندور ٹو گلگت توسیع دی جائیگی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے اعلان کیا ہے کہ چکدرہ ٹو چترال روڈ کو دو رویہ کرنے پر اپریل تک کام شروع کیا جائیگا جبکہ دیر موٹروے کو بھی سی پیک میں شامل کردیا گیا ہے ۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ منصوبے کو چکدرہ ٹو چترال ‘ چترال ٹو شندور اور شندور ٹو گلگت توسیع دی جائیگی جو مستقبل میں ایشیاء ممالک کیلئے گیٹ وے ثابت ہو گا ۔ اس منصوبے کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ دیر اور چترال کا تمام علاقہ دشوار گزار پہاڑی ریجن پر مشتمل ہے، اس لیے یہ ملک میں اب تک تعمیر ہونے والی تمام موٹرویز کے منصوبوں کے مقابلے میں زیادہ مشکل ثابت ہوگا۔
بتایا گیا ہے کہ دیر موٹروے منصوبہ سوات موٹروے کا حصہ ہوگا۔ شمالی علاقہ جات تک رسائی کو بہتر بنانے اور سیاحت کے فروغ کیلئے تعمیر کی جانے والی سوات موٹروے کی تعمیر گزشتہ برس مکمل کی گئی تھی۔ سوات موٹروے کسی بھی صوبائی حکومت کی جانب سے تعمیر کی جانے والی موٹروے کا پہلا منصوبہ ہے۔ جبکہ سوات موٹروے فیز 2 کی منظوری بھی دی جا چکی، تعمیر کا جلد آغاز ہوگا۔
سوات موٹروے فیز ٹو کے تحت چکدرہ سے فتح پور تک چار لینز پر مشتمل تقریبا 80 کلومیٹر لمبا موٹروے تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبہ صوبے میں سیاحت کے شعبے کو فروع دینے کے سلسلے میں سیاحتی مقامات تک ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی رسائی کو آسان بنانے کے لئے سڑکیں تعمیر کرنے کے منصوبے کا اہم حصہ ہے جسے نہ صرف علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا بلکہ علاقے میں تجارت اور صنعت کو بھی فروغ ملے گا اور لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں