76

سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ ن کی سب سے زیادہ نشستیں کم ہوں گی پاکستان تحریک انصاف کا 28 نشستوں کے ساتھ ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بننے کا امکان ہے

سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ ن کی سب سے زیادہ نشستیں کم ہوں گی
پاکستان تحریک انصاف کا 28 نشستوں کے ساتھ ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بننے کا امکان ہے

سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ ن کی سب سے زیادہ نشستیں کم ہونے کا امکان ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت بن سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کا 28 نشستوں کے ساتھ ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بننے کا قوی امکان ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی 19 نشستوں کے ساتھ دوسری اور مسلم لیگ ن کا 18 نشستوں کے ساتھ تیسری بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آنے کا امکان ہے ۔
بلوچستان عوامی پارٹی کا 12 نشستوں کے ساتھ چوتھی بڑی پارٹی بننے کا امکان ہے ۔ فاٹا کی 4 نشستوں پر انتخاب نہ ہونے کے باعث ایوان بالا کی نشستیں 100 رہ جائیں گی، انتخابی عمل کے بعد حکومتی اتحاد کے پاس 49 اپوزیشن کے پاس 51 سیٹیں رہنے کا امکان ہے ۔
رپورٹ کے مطابق سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ظفرالحق، سینیٹر مشاہد اﷲ خان، وزیراطلاعات سینیٹر شبلی فراز اور سینیٹر شیری رحمن سمیت 52 سینیٹرز 11 مارچ 2021ء کوریٹائرڈ ہو جائیں گے ۔

سندھ اور پنجاب سے 11، 11 اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے 12، 12 سینٹرز ریٹارئر ہو جائیں گے ۔مسلم لیگ ن کے سب سے زیادہ 17 سینٹرز ریٹائر ہوں گے ۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے 7 سینیٹرز ریٹائر ہوجائیں گے ۔ایم کیو ایم کے سندھ سے 4 سینیٹرز ریٹائر ہوجائیں گے ، جمعیت علما اسلام (ف) کے 2 سینیٹرز ریٹائر ہوجائیں گے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے ریٹائر ہونے والے تمام 7 سینٹرز کا تعلق خیبر پختونخواہ سے ہے ۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے 3، بی این پی مینگل کا 1،عوامی نیشنل پارٹی کا 1 سینیٹر ریٹائر ہو گا۔ فاٹا سے 4 آزاد ارکان اورنگزیب اورکزئی، مومن آفریدی، ساجد طوری اور تاج آفریدی ریٹائر ہو جائیں گے ۔ اسلام آباد سے 2 سینیٹرز راحیلہ مگسی اور یعقوب ناصر ریٹائر ہو جائیں گے۔ سینیٹرز کی ریٹائرمنٹ اور نئے انتخابات کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) کی 5 اور متحدہ قومی مومنٹ کی 3 نشستیں ہونے کا امکان ہے ۔
عوامی نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی دو دو نشستیں رہ جائیں گی۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی دو اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کی بھی دو نشستیں ہوں گی جبکہ مسلم لیگ ق لیگ کو بھی دو نشستیں ملنے کا امکان ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے اراکین مدد سے ہی ممکن ہو سکے گا۔ سینیٹرسراج الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد جماعت اسلامی کی سینٹ میں ایک نشست رہ جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں