MARYYAM NAWAZ 24

سینیٹ الیکشن پہلے کروائیں یا بعد میں جاتی حکومت کو کوئی نہیں بچا سکتا، مریم نواز

لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن پہلے کروائیں یا بعد میں جاتی حکومت کو کوئی نہیں بچا سکتا، شوآف ہینڈکیلئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے،اس کو آرڈیننس کے ذریعے بلڈوز نہیں کیا جاسکتا، یہ سپریم کورٹ کو بھی متنازع بنانا چاہتے ہیں،سینیٹ الیکشن سے متعلق فیصلے پی ڈی ایم کرے گی۔
انہوں نے آج لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن سے متعلق فیصلے پی ڈی ایم کرے گی۔سمجھ نہیں آرہی اگر پی ڈی ایم کی موومنٹ اور جلسوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تو ایسی کیا قیامت آگئی کہ ایک مہینہ پہلے الیکشن کروانے اعلان کرنا پڑا،جو چیز واضح ہے کہ ان کو یہ سمجھ آگئی ہے کہ حکومت کے پاس دن تھوڑے ہیں ، جو بھی ہتھکنڈے استعمال کریں ، گھر تو جانا پڑے گا۔
افواج پاکستان کے ترجمان بن کران کو سیاست میں گھسیٹتے رہے، ان کا نام استعمال کرکے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، بشیر میمن نے ایف آئی اے کے بارے گواہی دے دی، خفیہ ایجنسیوں کا بھی کام خود ہی کردیتے ہیں، اب الیکشن کمیشن کے چیئرمین بھی خود بن بیٹھے، یہ سارے فیصلے اعلانات الیکشن کمیشن کوکرنا ہے، آپ نے کس حیثیت میں اعلان کردیا؟ آئین پاکستان کی روح سے آپ یہ اعلان خود نہیں کرسکتے، آپ کی مشیروں کی فوج نے نہیں بتایا۔
آپ سپریم کورٹ کی منظوری لینا چاہتے ہیں؟ سپریم کورٹ کو کس طرح آپ سیاست میں گھسیٹنا چاہتے ہیں؟ میں شو آف ہینڈ کے خلاف نہیں، جب چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو اس وقت تو آپ کو شوآف ہینڈ نظر نہیں آیا۔جب آپ کے ارکان حلقوں میں جنے کے قابل نہیں، تو آپ کو شو آف ہینڈ نظر آگیا؟ آئینی ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے؟ سپریم کورٹ اس کی تشریح کرسکتی ہے۔
نیا قانون نہیں بناسکتی، آپ سپریم کورٹ کو بھی متنازع بنانا چاہتے ہیں۔کیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی خود بن بیٹھے؟آپ کواپنے ذاتی مفاد کیلئے آئین کا حلیہ نہیں بگاڑنے دیں گے۔الیکشن کمیشن کو آئین کے تحت چلانا چاہیے، یہ کسی کا ذاتی ادارہ نہیں، آپ کنٹینرپر کھڑے ہوکر کہتے تھے کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، ہم الیکشن کمیشن کو بھی کہتے ہیں، قوم آپ پر نظر رکھ کربیٹھی ہوئی ہے، آپ کو آئین کے مطابق ہر کام کرناچاہیے۔
فارن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن کے پاس ہے، الیکشن کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پانچ سو سیٹوں پر یہ الیکشن نہیں کروا سکتے، اگر زبردستی الیکشن کروائیں گے تو کیا ہم ڈر کر چوڑیاں پہن کربیٹھ جائیں گے؟ عمران خان لاہور جلسے کے وقت کتوں سے کھیل کر خود کو بہلا رہے تھے، کتوں سے کھیلنا اور بات ہے، لیکن قومی اداروں سے کھیلنا خطرناک بات ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن ایک ماہ پہلے کروائیں، یا بعد میں جاتی حکومت کو کوئی نہیں بچا سکتا، شوآف ہینڈکیلئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے، سینیٹ الیکشن اور شوآف ہینڈ آرڈیننس کے ذریعے نہیں ہوسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں