59

بال کھینچنا، تھپڑ مارنا یا گلا دبانا اب ’معمول‘ بنتا جا رہا ہے؟

خواتین پر تشدد کے خلاف کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں رضامندی سے ہونے والے سیکس کے دوران بھی تشدد معمول کی بات بن چکی ہے۔

ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ میں 40 برس سے کم عمر کی ایک تہائی سے زیادہ خواتین کو دوران سیکس تھپڑ مارنے، سانس بند کرنے، منھ بند کرنے اور تھوکنے جیسے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسی خواتین جنھوں نے اس نوعیت کے تشدد کا سامنا کیا ہے، خواہ وہ ان کی اجازت سے ہوا یا بلا اجازت، ان میں سے 20 فیصد کا کہنا تھا نے اس تشدد نے انھیں پریشان کیا اور وہ ڈر گئیں۔

23 سالہ اینا کہتی ہیں کہ تین مختلف مردوں کے ساتھ رضامندی سے قائم ہونے والے جنسی تعلق کے دوران ان کی خواہش کے برعکس انھیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔وہ کہتی ہیں کہ اس تشدد کا آغاز بال کھینچنے اور تھپڑ مارنے سے ہوتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایک مرد نے دوران سیکس ان کا گلا پکڑ لیا۔ ‘مجھے بہت صدمہ ہوا، یہ بہت پریشان کن اور ڈروانا تھا۔’

جب اینا نے اپنی کچھ سہیلیوں سے اس واقعے کا ذکر کیا تو اسے تب معلوم ہوا کہ یہ تو بہت عام ہے۔’اس کے بعد تقریباً تمام مرد جن کے ساتھ انھوں نے سیکس کیا، انھوں نے تشدد کے ان طریقوں میں سے کم از کم ایک کا استعمال ضرور کیا۔‘

اینا کہتی ہیں: ‘مجھے معلوم ہے کہ کچھ خواتین کہیں گی کہ انھیں یہ سب کچھ پسند ہے۔ لیکن پریشانی کی بات یہ ہے کہ مرد فرض کر لیتے ہیں کہ تمام عورتیں ایسے تشدد کو پسند کرتی ہیں’
وہ کہتی ہیں کہ ایک اور موقعے پر دوران سیکس ان کی مرضی کے خلاف اور بغیر کسی وارننگ کے ان کا گلا بھی گھونٹا گیا۔

اینا، جنھوں نے رواں برس ہی یونیورسٹی سے گریجویشن کی ہے، کہتی ہیں کہ ان کا ایک پارٹنر جنسی فعل کے دوران اتنی قوت استعمال کرتا تھا کہ انھیں خراشیں پڑ جاتیں اور کئی دن تک درد محسوس ہوتا تھا۔ریسرچ کمپنی ‘سوانتا کوم ریس’ نے برطانیہ میں 18 سے 39 برس کی 2002 عورتوں سے پوچھا کہ کیا انھوں نے دورانِ سیکس تھپڑ مارنے، منھ بند کرنے، سانس روکنے اور تھوکنے جیسے تشدد کا سامنا کیا ہے اور کیا یہ ان کی خواہش کے خلاف تھا۔

اس سروے میں 38 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس تشدد کا سامنا کیا ہے اور کئی مرتبہ ایسا ان کی خواہش کے برعکس ہوا۔۔ جبکہ سروے میں شریک 62 فیصد خواتین نے دوران سیکس یا تو تشدد کا سامنا کیا اور ان میں 31 فیصد کے مطابق یہ کبھی بھی ان کی خواہش کے خلاف نہیں تھا جبکہ مزید 31 فیصد کا کہنا ہے کہ انھیں ایسا کوئی تجربہ نہیں ہوا یا وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتیں۔

سینٹر فار ویمین جسٹس نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خواتین پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ متشدد، خطرناک اور تذلیل والے جنسی عمل میں شریک ہوں۔سینٹر فار ویمن نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ ایسے متشدد رویے وسیع پیمانے پر دستیاب پورنوگرافی کی وجہ سے پروان چڑھ رہے ہوں۔

خیراتی تنظیم ویمن ایڈ کی چیف ایگزیکٹو ایڈینا کلیئر نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چالیس برس سے کم عمر کی خواتین جو اپنی مرضی سے جنسی عمل میں شریک ہوتی ہیں انھیں ایسے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے وہ ذلت اور خوف محسوس کرتی ہیں۔ ایڈینا کلیئر نے کہا کہ سیکس پر رضامندی ظاہر کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مرد کو تھپڑ مارنے اور سانس روکنے کی اجازت مل جاتی ہے۔

ایما اب تیس کے پیٹے میں ہیں، اور حال ہی میں ایک طویل عرصے تک قائم رہنے والے رشتے سے باہر آئی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ان کا ایک مرد سے ایک رات کا تعلق قائم ہوا۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘ہم بستر میں جا پہنچے، اوردوران سیکس، بغیر کسی وارننگ کے اس نے میری سانس روکنا شروع کر دیا۔ حقیقت میں مجھے بہت جھٹکا لگا، اور میں ڈر گئی لیکن میں نے کسی موقع پر بھی مزاحمت نہیں کی کیونکہ میں خود کو بہت کمزور محسوس کر رہی تھی کہ اور میں ڈر رہی تھی کہ یہ شخص مجھ پر قابو پا لے گا۔

ایما بھی کہتی ہیں کہ اس تشدد کی وجہ شاید پورنوگرافی کا اثر ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ آن لائن ایسا مواد دیکھ رہا تھا اور حقیقی زندگی میں بھی ایسا کرنا چاہتا تھا۔اس تحقیق میں سامنے آیا کہ ایسی خواتین جنھوں نے دوران سیکس تھپڑ مارنے، سانس روکنے، منہ بند کرے اور تھوکنے جیسے تشدد کا سامنا کیا ان میں سے 42 فیصد اسے دباؤ میں برداشت کرنے پر رضامند ہوئیں۔‘

تشدد ’معمول بنتا جا رہا ہے‘فزیوتھراپسٹ سٹیفن پوپ نے جو جنسی تعلق اور رشتوں کے بارے میں خصوصی مہارت حاصل کر رہے ہیں، بی بی سی فائیو لائیو کو بتایا کہ ہر روز ان کے سامنے ایسے کیسز آتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک خاموش وبا ہے۔ لوگ ایسا کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا معمول کی بات ہے لیکن یہ بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دوران سیکس تشدد کا رجحان کئی لوگوں کے رشتوں کو بےوقعت بنا دیتا ہے لیکن وہ اسے قبول کر لیتے ہیں ۔ا سٹیفن پوپ کو خدشہ ہے کہ جو لوگ ایسے پرتشدد تعلق میں شریک ہوتے ہیں انھیں اس کے نقصانات کاعلم نہیں ہے۔

جب لوگ جنسی عمل کے دوران تشدد کی وجہ سے جان گنوانے سے بال بال بچ جاتے ہیں تو میرے پاس آتے ہیں۔ ‘جہاں تک گلا گھونٹنے کا تعلق ہے تو یہ ہمیشہ ہی بہت خطرناک ثابت ہوتا ہے اور اس کے بارے میں لوگ سب سے آخر میں سوچتے ہیں۔‘خواتین کے حقوق کی کارکن فیونا میکنزی نے اس سروے کی تنائج کو خوفناک قرار دیا ہے۔

‘میں تواتر کے ساتھ بظاہر رضامندی سے ہونے والے جنسی عمل میں عورتوں کے سانس روکنے، تھپڑ مارے جانے، زبانی گالیاں دینے اور مکے مارے جانے کے بارے میں سنتی ہوں۔ کئی واقعات میں تو خواتین ابتدا میں تشدد سے ہونے والے صدماتی حملے کو سمجھ ہی نہیں پاتیں۔فائیونا میکنزی نے جنسی عمل کے دوران تشدد سے کئی خواتین کی ہلاکت کے واقعات کے بعد ‘وی کیناٹ کنسینٹ ٹو دس’ یعنی ’ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے‘ نامی ایک گروپ بنایا۔

اینا کہتی ہیں کہ اب سیکس کا مرکز مرد بن چکے ہیں،اور اس میں پورن فلموں کا کردار اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ عورتوں کے لیے اب اس میں کچھ نہیں ہے۔ اینا کہتی ہے سیکس میں تشدد ایک معمول بن چکا ہے۔ ’وہ بہت عام سے مرد تھے لیکن میرے خیال میں وہ تمام پورن فلموں کے مستقل گاہک تھے ۔پورن فلموں میں وہ دیکھتے ہیں اور سوچ لیتے ہیں کہ یہ عورتوں کو پسند ہے لیکن وہ اس کے بارے میں پوچھتے نہیں ہیں۔‘یہ ریسرچ حالیہ دنوں میں پرتشدد سکیس کے واقعات میں ہونے والی اموات کے پس منظر میں کی گئی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں