147

عالمی اردو کانفرنس کا آغاز، 200 قلم کار شری، جوش ملیح آبادی کا یوم پیدائش منایا گیا

کراچی: عالمی اْردو کانفرنس کی بارہویں تقریب کا انعقاد 5دسمبر جمعرات کی شام پْروقار انداز میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے آڈیٹوریم میں کیا گیا۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں 12ویں عالمی اردو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کے سیاست دان ،ادیبوں اور دانشوروں سے سیکھیں آج ملک کو ترقی کی ضرورت ہے وہ اتفاق اور تدبر سے ہی ہو سکتی ہے 12ویں عالمی اردو کانفرنس کے مندوبین آرٹس کونسل کے نہیں حکومت سندھ کے مہمان ہیں اور سندھ حکومت میزبانی کا حق ادا کرے گی۔

کانفرنس میں پاکستان سمیت دنیا کے 24 ممالک سے دو سو سے زائد مندوبین شریک ہوئے ہیں۔کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں مختلف سیاسی سماجی و ادبی شخصیات نے شرکت کی ،وزیر ثقافت سندھ سردارعلی شاہ نے کہا کہ ہم نے دانشوروں سے لکھنا پڑھنا چلنا سیکھا، محمد احمد شاہ نے کہا کہ کانفرنس میں پہلی بار صرف اردو کی بات نہیں ہو گی پاکستان کی مختلف زبانوں کے الگ سیشن رکھے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں تسلسل کے ساتھ ہر سال جاری رہنے والی عالمی اْردو کانفرنس کی بارہویں تقریب کا انعقاد 5دسمبر جمعرات کی شام پْروقار انداز میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے آڈیٹوریم میں کیا گیا جس میں بھارت سمیت دْنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شعراء، ادیبوں اور اسکالروں نے شرکت کی۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت معروف ادبی شخصیات زہرا نگاہ، اسد محمد خاں، کشور ناہید، رضا علی عابدی، افتخار عارف، امجد اسلام امجد، پیرزادہ قاسم رضا صدیقی، مسعود اشعر، حسینہ معین، چین سے آئے ہوئے ٹینگ مینگ شنگ، جاپان سے تعلق رکھنے والے ہیروجی کتاوکا، زاہد حنا، نورالہدیٰ شاہ اور عارف نقوی نے کی جبکہ بھارت سے آئے ہوئے ممتاز نقاد، ادیب اور دانشور پروفیسر شمیم حنفی اور ہیومن رائٹس آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری حارث خلیق نے ادب اور سماج کے حوالے سے اپنے اپنے مقالے پیش کیے۔

اجلاس کی نظامت کے فرائض ایوب شیخ نے انجام دیے، افتتاحی اجلاس کے اختتام پر جوش ملیح آبادی کے121 ویں یوم پیدائش کا کیک بھی کاٹا گیا،علاوہ ازیں آرٹس کونسل میں جاری بارہویں عالمی اردو کانفرنس میں غالب کی ڈیڑھ سو سالہ برسی کی مناسبت سے خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس کا عنوان’’ غالب ہمہ رنگ شاعر‘‘ تھا ،اجلاس کی صدارت بھارت سے آئے ہوئے نامور ادیب شمیم حنفی نے کی جبکہ اجلاس میںڈاکٹر نعمان الحق نے ’’یگانہ اور مثال زمانہ گونہ گوں ‘‘،تحسین فراقی نے ’’حیات اور تصور حیات ‘‘ اور ہیروجی کتاوکا نے اپنا مقالہ پیش کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں