37

عراق میں مظاہرے اور ہلاکتیں، وزیراعظم کا مستعفی ہونے کا اعلان

عراق میں گذشتہ چند ہفتوں سے جاری مظاہروں کے بعد جمعے کو درجنوں ہلاکتوں کے نتیجے میں وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پارلیمان میں اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔

عراق میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے علما نے مظاہرین کے خلاف فورسز کے استعمال کی مذمت کی ہے اور نئی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ اکتوبر میں شروع ہونے والے احتجاج میں اب تک 400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور جمعے کو بھی کم ازکم 15 ہلاکتیں ہوئیں۔

مظاہرین حکومت سے نوکریوں، کرپشن کے خاتمے اور بہتر شہری سہولیات دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔وزیراعظم عبدالمہدی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پارلیمان میں اپنا استعفیٰ پیش کریں گے تاکہ ممبران نئی حکومت کو چن سکیں۔

وزیراعظم کا یہ فیصلہ مفتی آیت اللہ علی سیستانی کی جانب سے نئی حکومت کے قیام کے مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے۔

اس مطالبے کے جواب میں وزیراعظم عبدالمہدی کی دستخط شدہ تحریر میں لکھا گیا ہے کہ وہ پارلیمان سے کہیں گے کہ وہ ان کا استعفیٰ قبول کریں۔

اس بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ استعفیٰ کب دیں گے۔ اتوار کو پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہو گا جس میں ملک کی بحرانی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

یہ احتجاج وزیرِ اعظم عبدالمہدی کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر آن لائن دی گئی کال کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ بھی عراق کے وزیراعظم عبدالمہدی نے مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد دارالحکومت بغداد میں کرفیو کا اعلان کیا جبکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو بھی بلاک کر دیا گیا۔

گذشتہ روز عراق نے گذشتہ چند ہفتوں سے جاری مظاہروں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدامنی سے نمٹنے کے لیے ہنگانی سیل قائم کر دیے ہیں۔

اس سے قبل مظاہرین کے ایک گروہ نے نجف شہر کے جنوبی علاقے میں واقع ایرانی قونصل خانے کو آگ لگا دی ہے۔ مظاہرین ’ایران عراق سے نکلو‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق قونصل خانے کا عملہ عمارت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

ایرانی قونصل خانے پر یہ ایک ماہ میں دوسرا حملہ تھا۔ اس سے قبل کربلا میں ایرانی قونصل خانے پر تین ہفتے پہلے حملہ ہوا تھا۔مظاہرین کی جانب سے ایران پر عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

ایران نے مغربی ممالک پر الزام لگایا تھا کہ وہ عراق میں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔

ایک عینی شاہد کے مطابق بصرہ میں مظاہرین نے سرکاری ملازمین کو کام کرنے کے لیے عمارتوں میں جانے سے روکا۔ انھوں نے ملازمین کو روکنے کے لیے ان مظاہروں میں ہلاک ہونے والے اپنے پیاروں کی یاد میں کنکریٹ کے ٹکڑوں کو پینٹ کر کے علامتی تابوت بنا رکھے تھے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق بدعنوان ترین ممالک کی فہرست میں عراق کا 12واں نمبر ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں