minar-e-Pakistan 19

علامہ خادم رضوی کا نمازِ جنازہ، مینار پاکستان میں جگہ ختم ہو گئی

لاہور : تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کو آج سپرد خاک کر دیا جائے گا۔ خادم حسین رضوی کا جسد خاکی ایمبولینس کے ذریعے مینار پاکستان لے جایا جا رہا ہے ،علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ کے لیے ان کے جسد خاکی کو پہلے مینار پاکستان جبکہ نماز جنازہ کے بعد دوبارہ ان کی میت کو ان کی رہائشگاہ پر لایا جائے گا جہاں ان کی تدفین کی جائے گی۔
علامہ خادم حسین رضوی کے جنازے میں رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن سمیت لاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے۔علامہ خادم رضوی کی نماز جنازہ میں ملک بھر سے لاکھوں افراد شریک ہو رہے ہیں۔مینار پاکستان گراؤنڈ سے مسلسل لبیک یارسول اللہ کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔
دمیڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ نماز جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت سے مینار پاکستان میں جگہ ہی ختم ہو گئی ہے۔

علامہ خادم رضوری کا نماز جنازہ ملک میں ہونے والے بڑے بڑے جنازوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔مولانا کی نماز جنازہ کا اعلان گزشتہ روز بھی کیا گیا تھا مگر چونکہ مریدین اور چاہنے والوں نے ملک بھر سے آنا تھا اس لیے لوگوں کے بروقت نہ پہنچ سکنے کی بنا پر ایک دن مزید آگے کر کے آج صبح دس بجے نماز جنازہ کا اعلان کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا۔ وہ 22 جون 1966 کو ’نکہ توت‘ ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ خادم حسین رضوی ٹریفک کے ایک حادثے میں معذور ہو گئے تھے اور سہارے کے بغیر نہیں چل سکتے ہیں۔ خادم حسین رضوی نے گزشتہ کچھ سالوں کے دوران پاکستانی سیاست میں اہم مقام حاصل کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں