115

علی ظفر نے اپنی شادی پر رکھی جانے والی شرط سے پردہ اٹھا دیا

فیصل آباد میں ہونے والے چھٹے ادبی میلے میں جہیز کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر کا کہنا تھا کہ میں نے شادی کی ایک شرط رکھی تھی کہ مجھے نہ تو کوئی پیسہ چاہئے نہ ہی تحائف کی صورت میں سامان چاہئے جس پر سسرال والے مان تو گئے لیکن انہوں نے شادی کا ایک سوٹ دینے کا کہا جوکہ سسرال کی طرف سے واحد چیز تھی جسے میں نے وصول کیا۔

علی ظفر نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ جہیز کا رواج اب تک اس معاشرے میں کیوں قائم ہے۔ ان روایات کو باہر نکال کر پھینک دینا چاہئے۔ کیوں کہ ایک باپ پوری زندگی کام کاج کرکے اپنی بیٹی کا جہیز جمع کرتا ہے صرف اس وجہ سے کہ اگر نہیں دیا تو سسرال والے اور لوگ کیا کہیں گے۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’ لوگ کیا کہیں گے‘ اس بات کو ہمیں اپنی زندگی سے ہی نکال دینا چاہئے اور اس بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہئے کہ دوسرے کیا کہیں گے کیوں کہ لوگوں کا کام ہی باتیں کرنا ہوتا ہے۔ اور وہ لوگ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔ زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارنی چاہئے اور اسلام سادگی کا درس دیتا ہے ہمیں اسی بات کو ترجیح دینی چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں