35

فردوس عاشق اور غلام سرور توہین عدالت کے مرتکب قرار، سزا سے بچ گئے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں فردوس عاشق اعوان اور غلام سرور خان پر جرم ثابت ہونے کے باوجود ان کی معافی قبول کرتے ہوئے دونوں کے خلاف توہین عدالت کے شوکاز نوٹس واپس لے لئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان اور وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ وکلا نے بتایا کہ دونوں ارکان نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی کابینہ کے دونوں ارکان سے کہا کہ آپ دونوں ذمہ دار پوزیشن پر ہیں اور کابینہ کی نمائندگی کرتے ہیں، خامیاں ہر جگہ پر ہیں کوئی بھی مکمل نہیں، عدالت توقع رکھتی ہے آئندہ آپ عوامی سطح پر زیر التوا کیسز کے حوالے سے رائے نہیں دیں گے، عدالت آپ کو اس عمل کو نظر انداز کررہی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اداروں کو متنازع کرنا اور لوگوں کا اداروں پر اعتماد خراب کرنا ٹھیک نہیں ہے، آزاد عدلیہ کے لیے اور بھی چیلنجز موجود ہیں، عدالت کو اچھا نہیں لگتا کہ وہ کسی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے، صرف اْس وقت بلاتے ہیں جب انصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ بنے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فردوس عاشق اعوان اور غلام سرور خان کے خلاف توہین عدالت شوکاز نوٹس واپس لے لئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہمیں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ دونوں نے توہین عدالت کی ضرور ہے، اس سب کے باوجود فیصلہ کیاہے آپ کے شوکاز نوٹس واپس لے لئے، لوگ اس وقت حکومت اور پارلیمان کی طرف دیکھ رہے ہیں، بدقسمتی سے ہم سیاسی عدم استحکام کے دور سے گزر رہے ہیں، لیکن سیاسی عدم استحکام کا اثر عدالتی نظام پر نہیں پڑنا چاہیے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ ایسا تاثر دیا جا رہا تھا کہ کیسے عدالتیں عام افراد کو انصاف نہیں دے رہیں، دھرنے میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری روکنے کا چھٹی کے دن حکم دیا تھا، پی ٹی آئی نے جن کو ابھی ایڈوکیٹ جنرل لگایا وہ بھی اس عدالت سے چھٹی کے دن شام کو ریلیف لے چکے، دونوں سائیڈز اسی طرح کرتی ہیں کہ جس کے خلاف فیصلہ آئے وہ ایسے بیانات دیتے ہیں، سیاست کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد خراب کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 31 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ غلام سرور خان اور فردوس عاشق اعوان توہین عدالت کے مرتکب ہوئے، اس کے باوجود انہیں سزا نہیں دے رہے، انہوں نے نظام انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالی اور مقدمے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی، انہوں نے اپنے بیانات سے عدلیہ کے وقار پر غلط تاثر دینے اور عدالتوں پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ دوران سماعت پتہ چلا کہ توہین عدالت قانون سے معاشرہ آگاہ نہیں، زیر التوا مقدمات کی اہمیت اور اس پر رائے دینے کے حوالے سے آگاہی موجود نہیں، عدالتیں بڑی سے بڑی توہین کو بھی نظر انداز کر دیتی ہیں،امید ہے مستقبل میں زیر سماعت مقدمات پر کوئی رائے نہیں دی جائے گی، ستم ظریفی ہے کہ کابینہ ارکان کے بیانات اپنی حکومت کے خلاف تھے، تاہم غیر مشروط معافی کا مطلب یہ نہیں کہ توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں