34

فیصلہ کیا ہے کوئلے سے مزید توانائی پیدا نہیں کریں گے، عمران خان کوئلے کی جگہ ہائیڈرو پاور پلانٹ لگائے جائیں گے، اگلے 3 سالوں میں 10ارب درخت لگا رہے ہیں، جبکہ 2030ء تک 30 فیصد گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کردیا جائے گا۔ وزیراعظم پاکستان کا موسمیاتی تبدیلیوں پر عالمی ورچوئل اجلاس سے خطاب

فیصلہ کیا ہے کوئلے سے مزید توانائی پیدا نہیں کریں گے، عمران خان
کوئلے کی جگہ ہائیڈرو پاور پلانٹ لگائے جائیں گے، اگلے 3 سالوں میں 10ارب درخت لگا رہے ہیں، جبکہ 2030ء تک 30 فیصد گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کردیا جائے گا۔ وزیراعظم پاکستان کا موسمیاتی تبدیلیوں پر عالمی ورچوئل اجلاس سے خطاب

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ فیصلہ کیا ہے کوئلے سے مزید توانائی پیدا نہیں کریں گے، کوئلے کی جگہ ہائیڈرو پاور پلانٹ لگائے جائیں گے، پاکستان ماحولیاتی آلودگی سے سے متاثر ہونے والا پانچواں ملک ہے، ماحولیاتی آلوگی کے خاتمے کیلئے 10 ارب درخت لگا رہے ہیں، جبکہ پہلے مرحلے میں 30 فیصد گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کردیں گے۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں پر عالمی ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کلین انرجی کی جانب گامزن ہے۔ فیصلہ کیا ہے کوئلے سے مزید توانائی پیدا نہیں کریں گے۔کوئلے کے چلنے والے پاورپلانٹس کی جگہ ہائیڈروپاور پلانٹ لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی آلودگی میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، پاکستان ماحولیاتی آلودگی سے متاثر ہونے والا دنیا کا پانچواں ملک ہے۔
پاکستان نیشنل پارک کی تعداد میں بھی اضافہ کررہا ہے، ہم نیشنل پارک کی تعداد 30 سے 45 کررہے ہیں۔ ہم اگلے تین سالوں میں 10 ارب درخت لگا رہے ہیں۔اسی طرح 2030ء تک 30 فیصد گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کردیا جائے گا۔ اسی طرح 2030ء تک مجموعی توانائی کے 60 فیصد کوکلین انرجی پرمنتقل کرنے کا ہدف ہے۔ یاد رہے عالمی ورچوئل سربراہی کانفرنس ماحولیات کے حوالے سے معاہدے کے پانچ سال مکمل ہونے پر منعقد ہوا ہے۔
اجلاس سے کئی ممالک کے سربراہان خطاب کیا اور کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے نئے اہداف کا تعین کیا۔ مزید برآں وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات اور سیاحتی مقامات سے متعلق ٹویٹ بھی کیا۔ جس وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کے وسیع و عریض امکانات کی دریافت کا آغاز ہو رہا ہے۔ ہماری حکومت ماحول کے تحفظ کا اہتمام کیا جارہا ہے جس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاحتی صلاحیتوں کو ترقی دینے کیلئے پرعزم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں