163

قومی اسمبلی سے استعفوں کے معاملے پر نون لیگ اور پیپلزپارٹی میں اعتماد کا فقدان

قومی اسمبلی سے استعفوں کے معاملے پر نون لیگ اور پیپلزپارٹی میں اعتماد کا فقدان
دونوں جماعتوں کے ”ووننگ ہارسز“کی جانب سے بغاوت کے خدشے کے پیش نظردونوں جماعتیں پریشان ہیں‘ آئین اور اسمبلی رولزآف بزنس کے تحت اراکین کے استعفے کو منظور ‘نامنظور کرنا یا التواءمیں رکھنا سپیکر کا اختیار ہے‘نوازشریف کے قریبی ساتھی بھی انہیں استعفوں سے بازرہنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں.ایڈیٹر”اردوپوائنٹ“میاں محمد ندیم کا خصوصی تجزیہ

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم )کی جانب سے استعفوں کی دھمکی کے جواب میں حکومت اتنا زیادہ پراعتماد کیوں ہے؟ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں نہ کوئی ایسی روایت ہے نہ اخلاقیات ‘دوسری جانب استعفوں کے معاملے پر پی ڈی ایم کی دونوں بڑی جماعتوں میں فاروڈ بلاک وجود میں آجائیں گے .
پاکستان میں سیاست ”ووننگ ہارسز“پر چلتی ہے اور یہ ”جیت والے گھوڑے“جماعتوں کے نہیں بلکہ جماعتیں ان کی محتاج ہوتی ہیں لہذا استعفوں کی دھمکی دینا آسان ہے مگر عمل درآمد ممکن نہیں .
ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے درمیان اس معاملے پر اعتماد کا فقدان ہے مسلم لیگ نون کے شاید کچھ اراکین استعفے دینے پر تیار ہوجائیں مگر شہبازشریف سمیت پارٹی کے منتخب اراکین کا ایک بڑا حصہ اس کا مخالف ہے کیونکہ انہیں یقین ہے پیپلزپارٹی اپنی سندھ حکومت کو بچانے کے لیے ایسے کسی اقدام کا حصہ نہیں بنے گی اور عین وقت پر آکر اس کے موقف میں تبدیلی آسکتی ہے.

اس سلسلہ میں ایڈیٹر”اردوپوائنٹ“میاں محمد ندیم کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے انتہائی اہم ہے اگر پی ڈی ایم حکومت گرانے میں سنجیدہ ہے تو اس وقت سندھ کی صوبائی حکومت کی صورت میں سب سے اہم کارڈ پیپلزپارٹی کے ہاتھ میں ہے آئین کے مطابق کسی بھی ایک صوبے کی حکومت کے مستعفی ہونے سے وفاق کا قومی اسمبلی اور حکومت کو برقراررکھنا ناممکن ہوجاتا ہے تاہم پیپلزپارٹی اس سلسلہ میں نون لیگ کو واضح پیغام دے چکی ہے کہ سندھ حکومت سے دستبردار نہیں ہوگی دوسرا اہم ترین معاملہ ہے جماعتوں کے اپنے اندر توڑپھوڑکے عمل کا کیونکہ آئین کے مطابق ہر رکن کا سپیکر کے پاس جاکر اپنے استعفی کی تصدیق کرنا لازم ہوتا ہے اس کے علاوہ مستعفی ہونے والے رکن اپنے ہاتھوں سے استعفی لکھنا لازم ہے.
انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں جب نون دور حکومت میں تحریک انصاف نے استعفی جمع کروائے تھے تو اسپیکر ایازصادق نے ان کی منظوری نہیں دی تھی اسی طرح 18ویں ترمیم کے ذریعے کسی صوبے میں گورنرراج لگانے کو قومی اسمبلی کی منظوری سے مشروط کردیا گیا تھالہذا پیپلزپارٹی محفوظ ترین ہونے کے باوجود سندھ اسمبلی توڑنے کا آپشن استعمال کرنے کو تیار نہیں ہے.
انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ استعفوں کے معاملے پر سپیکر کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں ماضی میں کئی اراکین کے تحریری طور پر بجھوائے گئے استعفی فوری منظورکرکے سیٹ کی ڈی نوٹیفکیشن کے لیے الیکشن کمیشن کو بجھوایا گیا مگر زیادہ ترکیسوں میں پارٹیاں ایک طرف استعفی جمع کرواتی ہیں تو دوسری جانب سے حکومت سے خفیہ مذکرات میں انہیں ”ہولڈ“پر رکھنے کی درخواست کرتی ہیں دوسرا ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کی حکمت علمی دوطرح کی ہوتی ہے ایک عوامی اور دوسری حقیقی عوامی حکمت عملی میں بڑے بڑے اعلانات‘بیانات‘دعوے اور دھمکیاں ہوتی ہیں جبکہ عمومی طور پر حقیقی حکمت عملی اس کے بالکل الٹ چل رہی ہوتی ہے .
میاں ندیم نے کہا کہ یہاں ایک مثال پیش کرنا چاہونگا کہ 2008کی پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے دواراکین اسمبلی فلور پر ایک دوسرے کے جانی دشمن دکھائی دیتے تھے مگر رات کو محفل اکھٹے جماتے تھے تو اسی کا نام سیاست ہے. پی ڈی ایم میں شامل ایک بڑی جماعت کے سنیئرراہنماءنے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے کو دھوکا دینے کی کوشش کررہی ہیں جبکہ چھوٹی جماعتیں جن کی ایک بھی نشست ہے قومی اسمبلی میں وہ بھی اسے نہیں گنوانا چاہتیں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں الیکشن کافی مہنگا ہے اور ایک رکن قومی اسمبلی اپنی جیب سے کروڑوں روپے لگا کر ایم این اے بنتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں مغربی جمہورتیوں کی طرح مستعفی ہونے کی روایات بہت کم ملتی ہیں .
انہوں نے کہا کہ یہ طے ہے کہ اپوزیشن احتجاج کرتی رہے گی اور حکومت اپنا کام کرئے گی ‘ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نون لیگ میں واضح تقسیم موجود ہے اور اگر بات استعفوں تک آتی ہے تو نون لیگ اور شین لیگ کی جس حقیقت کو آج تک پراپگینڈا کہہ کرنظراندازکیا جاتا رہا ہے وہ ایک حقیقت بن کر سامنے آجائے گا میاں نوازشریف‘مریم نوازاور ان کے کچھ قریبی ساتھی استعفوں کے حامی ہیں جبکہ پارٹی کے ”ووننگ ہارسز“کی بڑی تعداد انتہائی محتاط رویہ اختیار کیئے ہوئے ہے ان کی اکثریت اس وقت نہ تو میڈیا میں نظرآرہی ہے نہ احتجاج اور پی ڈی ایم کے جلسوں میں اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ وہ استعفوں کے آپشن کے حق میں نہیں .
شہبازشریف کی گرفتاری کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں یہ تو نہیں کہتا کہ شہبازشریف اور ان کے صاحبزادے کو ان کی فرمائش پر گرفتار کیا گیا مگر ماضی میں ہمارے سیاست دان ایسے حربے استعمال کرتے آئے ہیں تو کوئی بعید نہیں کہ ایسا ہوا ہو. میاں ندیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں سب سے زیادہ سخت حالات جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویزمشرف کے مارشل لاءکے زمانے میں رہے مگر ان دونوں اداروں میں آج کی اپوزیشن پارٹیوں نے دونوں فوجی آمروں کے اقتدار کو مستحکم کیا نہ کہ استعفے دیئے جنرل ضیاءالحق کے دور میں پیپلزپارٹی سب سے زیادہ متاثرہ جماعت رہی اگرچہ ضیاءالحق کے غیرجماعتی انتخابات میں پیپلزپارٹی نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا مگر اس کے سینکڑوں عہدیداروں اور کارکنوں نے ملک بھر سے انتخابات میں حصہ لیا اس سے قبل ضمنی انتخابات میں بھی یہی عمل داہرایا گیا تھا .
مشرف کے مارشل لاءمیں مسلم لیگ نون متاثرہ جماعت بنی اس کی قیادت نے گرفتاری کے بعد جلاوطنی قبول کی مگر بلدیاتی انتخابات ہوں یا عام انتخابات دونوں میں مسلم لیگ نون کی مرکزی لیڈرشپ نے بھرپور حصہ لیا اور کسی بھی موقع پر مستعفی نہیں ہوئے جبکہ پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان اسی جنرل پرویزمشرف کی حکومت کا حصہ رہے جس کے خلاف نون لیگ آرٹیکل چھ تحت کاروائی چاہتی ہے.
سابق وزیراعظم نوازشریف فوج اور خفیہ اداروں کو اپنی نااہلی کا ذمہ دار قراردیتے ہیں مگر انہوں نے بھی اس وقت تک استعفے نہیں دیئے جب تک انہیں عدالت نے نااہل قرارنہیں دیا جبکہ ان کی جماعت نے مستعفی ہونے کی بجائے پانچ سال کی مدت پوری کی اس سے قبل تین وزراءاعظم کی قربانی دینے کے باوجود پیپلزپارٹی مستعفی نہیں ہوئی بلکہ اقتدار میں رہی انہوں نے کہا کہ آئین اور اسمبلی کے رولزآف بزنس کے تحت سپیکر استعفوں کے معاملے میں بااختیار ہیں مگر دونوں بڑی سیاسی جماعتیں تحریک انصاف کے سپیکر اسد قیصر سے خوفزدہ ہیں کہ وہ استعفے جمع کروانے کی صورت میں انہیں فوری منظورکرکے نشستوں کو ڈی نوٹی فائی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو نہ بجھوادیں انہوں نے کہا کہ یہ طے ہے کہ پیپلزپارٹی کسی طور مستعفی ہوگی جہاں تک نون لیگ کا تعلق ہے تو ممکن ہے میاں نوازشریف کے کچھ انتہائی قریبی ساتھی استعفے جمع کروادیں مگر بڑے پیمانے پر استعفے جمع کروانے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا میاں نوازشریف کے کئی قریبی ساتھی انہیں اس سے بازرکھنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ایسی صورتحال میں مسلم لیگ نون کا فاروڈبلاک ضمنی انتخابات میں حصہ لے گا اور جماعت کی سیاست ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گی .

اپنا تبصرہ بھیجیں