: موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی 544

لاہور: موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے واقعہ کی تحقیقات میں بڑی پیشرفت

لاہور: موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے واقعہ کی تحقیقات میں بڑی پیشرفت۔ 12 کے قریب مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا، کھوجی، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی این اے کی مدد سے تفتیش ہو رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور موٹروے پر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے بعد کیس کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر جاری ایک پیغام میں بتایا ہے کہ اجتماعی زیادتی کے واقعہ میں ملوث 12 کے قریب مشتبہ افراد کو دھر لیا گیا ہے۔ اپنے ٹوئیٹ میں انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سی سی او پی لاہور تفتیشی ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں۔

شہباز گل کے مطابق تفتیش میں اربن اور رورل پولیسنگ کی تکنیک استعمال کی جا رہی ہے- معاون خصوصی نے بتایا کہ پولیس نے اب تک 12 کے قریب مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ کھوجی، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی این اے کی مدد سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے گجرپورہ کے قریب ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور اسلام آباد موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا خوفناک واقعہ پیش آیا جس سے متعلق بتایا گیا ہے کہ چند جنسی درندوں نے بچوں کے سامنے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
واقعہ کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے موٹروے پر دوران سفر خاتون کی گاڑی خراب ہو گئی تھی، اس دوران چند نامعلوم افراد اچانک نمودار ہوئے اور سڑک پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ ڈالا۔ گاڑی میں خاتون اور اس کے بچے موجود تھے۔ ملزمان نے خاتون اور بچوں کو گاڑی سے نکالا اور موٹروے کی حفاظتی تار کاٹ کر انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے گئے۔
پھر اس کے بعد سفاک درندوں نے خاتون کو بچوں کے سامنے اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور اس شرمناک فعل کے بعد گاڑی میں موجود ایک لاکھ روپے کی رقم بھی لے کر فرار ہو گئے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ واقعہ پیش آنے کے بعد خاتون نے رشتے داروں سے رابطہ کیا۔ ایک رشتے دار کی جانب سے فوری موٹروے پولیس سے رابطہ کیا گیا تاہم ایک گھنٹہ انتظار کے باوجود موٹروے پولیس جائے وقوعہ پر نہ پہنچ پائی۔

پولیس اور خاتون کے رشتے داروں کے جائے وقوعہ پر پہنچنے سے قبل ہی ملزمان خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا کر فرار ہو چکے تھے۔ انسانیت سوز واقعہ کے بعد لاہور پولیس اور موٹروے پولیس کے درمیان اس بات پر تنازعہ پیدا ہو گیا کہ جس جگہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے وہ علاقہ کس کی حدود میں آتا ہے-گردش کرنے والی خبروں کے مطابق لاہور سیالکوٹ موٹروے پر پولیس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس حوالے سے موٹروے پولیس کی جانب سے باقاعدہ وضاحت بھی جاری کی گئی ہے۔ موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے وہ علاقہ موٹروے پولیس کی حدود میں نہیں آتا۔ موٹروے پولیس حکام کا بتانا ہے کہ تاحال اس علاقے کا کنٹرول انہیں نہیں دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو حکم دیا ہے کہ جلد سے جلد ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جائے۔ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سی سی او پی لاہور تفتیشی ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے سیف سٹی کیمروں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جبکہ گجر پورہ کے علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کیا گیا ہے جس میں کچھ گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں