muhammad amir 103

محمد عامر بری صحبت کی وجہ سے اپنے مکمل ٹیلنٹ کا مظاہرہ نہیں کرسکا:شعیب اختر

لاہور : سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے کہا کہ محمد عامر بری صحبت کی وجہ سے اپنے مکمل ٹیلنٹ کا مظاہرہ نہیں کرسکا۔ محمد عامر 2009ء کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں 17 سال کی عمر میں منظر عام پرآئے اور پاکستان کو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں کامیابی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2010ء کے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی وجہ سے ممحمد عامر کا کیریئر تاریکیوں میں گم ہوگیا ۔
محمد عامر ، کپتان سلمان بٹ اور محمد آصف کے ہمراہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں پھنسے تھے اور بعدازاں ان پر 5 سال کی پابندگی عا ئد کردی گئی ۔ شعیب اختر کا کہنا تھا کہ اگر محمد عامر بری صحبت کا شکار نہ ہوتے تو پاکستان کرکٹ کو بہت فائدہ پہنچا سکتے تھے۔ انگلینڈ کے دورے سے قبل پاکستانی فاسٹ بولرکو بتایا تھا لیکن وہ پھر بھی غلط ہاتھوں میں کھیل گئے ۔

محمد عامر اب وقت کسی بھی فارمیٹ میں قومی ٹیم کا حصہ نہیں ہیں اور ان کی فٹنس اور کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ زمبابوے کے خلاف حالیہ اختتام پذیر سیریز کے لئے ان کا انتخاب نہیں کیا گیا تھا اور دورہ نیوزی لینڈ سے ان کا نام دوبارہ 35 رکنی سکواڈ سے خارج کردیا گیا تھا۔ 2010ء میں اپنے آغاز سے لے کر پابندی تک عامر نے تینوں فارمیٹس کے47 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 25.66 کی اوسط اور 3.76 رنز فی اوور دیکر 99 وکٹیں حاصل کیں جن میں 3 مرتبہ اننگز میں 5 وکٹوں کی کارکردگی بھی شامل تھی ۔
2016ء میں انٹرنیشنل کرکٹ میں اپسی کے بعد محمد عامر کبھی اپنی پرانی فارم حاصل نہیں کرپائے۔ انہوں نے تمام فارمیٹس میں 100 میچوں میں حصہ لیا اور 29.68 کی اوسط اور 3.71 رنز فی اوورز دیکر 160 وکٹیں حاصل کیں جن میں 2 مرتبہ اننگز میں 5 وکٹیں لینا شامل تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں