31

مرنے سے قبل عرفان خان کے آخری الفاظ

بالی ووڈ اداکار عرفان خان مرنے سے پہلے اپنی والدہ کو یاد کرتے رہے تھے اور مرنے سے قبل اپنی والدہ کی یاد میں بولے گئے چند الفاظ نے ان کے چاہنے والوں کو بھی افسردہ کردیا۔29 اپریل کی صبح بالی ووڈ کے نامور اداکار عرفان خان اپنے چاہنے والوں کو اداس چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ عرفان خان کی موت کی خبر ان کے مداحوں پر بجلی بن کر گری اور بالی ووڈ سمیت پاکستانی فنکار بھی عرفان خان کی اچانک موت پر غمزدہ نظر آئے۔عرفان خان کی موت سے محض 4 روز قبل ان کی والدہ سعیدہ بیگم کا بھارتی شہر جے پور میں انتقال ہوا تھا لیکن ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے باعث عرفان خان اپنی والدہ کے جنازے میں شرکت نہ کرسکے تھے۔ ہاں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انہوں نے اپنی والدہ کی آخری رسومات میں ضرور شرکت کی تھی۔ماں کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کا دکھ اتنا بڑا تھا کہ عرفان خان اپنے آخری وقت میں بھی اپنی والدہ کو ہی یاد کرتے رہے تھے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق عرفاں خان نے ممبئی کے کوکیلا بین اسپتال میں آخری سانسیں لیں اور مرنے سے قبل اپنی اہلیہ ستاپا سکدار سے کہا ’’دیکھو اماں آئی ہیں، وہ میرے برابر میں بیٹھی ہیں، اماں مجھے لینے آئی ہیں۔‘‘ مرنے سے قبل عرفان خان کے یہ آخری الفاظ تھے۔ عرفان خان کے ان الفاظ میں موجود درد سے واضح ہے کہ انہیں اپنی والدہ کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کا بے حد دکھ تھا اور وہ اپنی والدہ سے بے حد محبت کرتے تھے۔سوشل میڈیا پر عرفان خان کے چاہنے والوں نے ان کے اور ان کی والدہ کے لیے جنت میں اعلیٰ مقام کی دعا کرتے ہوئے نہات دکھ بھرے انداز میں کہا ہے کہ عرفان خان اب جنت میں اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر سوسکتے ہیں۔ ایک اور صارف نے نہایت دکھی لہجے میں کہا عرفان خان کی موت کی وجہ کینسر یا کورونا نہیں بلکہ ان کی والدہ کی موت بنی۔واضح رہے کہ عرفان خان کو دو سال قبل نیورو اینڈو کرائن ٹیومر کی تشخیص ہوئی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عرفان خان علاج کی غرض سے بیرون ملک گئے تھے اور صحت یاب بھی ہوگئے تھے۔ تاہم موت سے قبل انہیں کولون (بڑی آنت) میں انفیکشن کے باعث اسپتال میں داخل کیا تھا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے تھے۔ بھارتی میڈیا میں عرفان خان کی موت کی وجہ کولون انفیکشن ہی قرار دی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں