mishal 21

مشال قتل کیس ، مرکزی ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کا حکم

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے مشال قتل کیس میں 25 ملزمان کی ضمانت پر رہائی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ، مرکزی ملزم عمران کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کی طرف سے مشال خان قتل کیس میں مجرم کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا گیا ، اپنے فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ نے 25 ملزمان کی ضمانت پر رہائی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ان 25 ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ، عدالت نے 7 ملزمان کی عمر قید کی سزا کو بھی برقرار رکھا ، اپنے فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ کی طرف سے ملزمان کی 3 سال قید کی سزا کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخواحکومت اور مشال کے والد نےانسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں ، ملزمان کی جانب سے بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپلیں دائرکی گئی تھیں،کیس کی سماعت جسٹس لال جان خٹک اور جسٹس سیدعتیق شاہ نے کی ، عدالت نے فریقین کی دلائل مکمل ہونے پرفیصلہ محفوظ کرلیا تھا ۔
خیال رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے مشال خان کیس میں ایک ملزم کو سزائے موت اور 4 کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے ، اس سے قبل سال فروری 2018 میں عدالت نے مشال خان قتل کیس میں 25 ملزمان کی سزائیں معطل کردی تھیں ، پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ میں کیس سے متعلق سزاؤں کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی تھی جس کے بعد یہ فیصلہ دیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی عدالت ایبٹ آباد نے مشال خان قتل کیس میں 25 ملزمان کو چار چار سال قید کی سزائیں دی تھیں تاہم ملزمان نے اپنی سزاؤں کو ہائی کورٹ میں چیلنج کررکھا تھا۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ بھی مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل پر لیے گئے ازخود نوٹس کیس کو نمٹا چکی ہے ، سپریم کورٹ کے مطابق ملزم کو ٹرائل کورٹ سے سزا ہوچکی ہے، جس کے بعد ازخود نوٹس کو مزید چلانے کی ضرورت نہیں بنتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں