124

ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا جاتا .عمران خان بھارت فرقہ ورانہ فسادات کے ذریعے پورے پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے ‘ہزارہ برادری کے سارے مطالبات مان لیے ہیں وہ آج لاشوں کی تدفین کردیں میں آج ہی کوئٹہ پہنچ جاﺅنگا مگر یہ نہیں مانا جائے گا کہ وزیراعظم کے آنے پر ہی تدفین ہوگی. وزیراعظم کا اسلام آباد میں اکنامک زون اتھارٹی کے قیام کی تقریب سے خطاب

ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا جاتا .عمران خان
بھارت فرقہ ورانہ فسادات کے ذریعے پورے پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے ‘ہزارہ برادری کے سارے مطالبات مان لیے ہیں وہ آج لاشوں کی تدفین کردیں میں آج ہی کوئٹہ پہنچ جاﺅنگا مگر یہ نہیں مانا جائے گا کہ وزیراعظم کے آنے پر ہی تدفین ہوگی. وزیراعظم کا اسلام آباد میں اکنامک زون اتھارٹی کے قیام کی تقریب سے خطاب

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے ہزارہ برادری کے تمام مطالبات مان لیے ہیں لیکن کسی بھی وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا جاتا کہ آپ آئیں گے تو ہم تدفین کریں گے. اسلام آباد میں اسپیشل اکنامک زونز اتھارٹی کی لانچنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شاید سب سے زیادہ ظلم ہزارہ برادری کے لوگوں پر ہوا، خاص طور پر گزشتہ 20 برسوں میں 11 ستمبر 2001 کے بعد ان کے اوپر دہشت گردی، ظلم اور قتل کیا گیا وہ کسی اور برادری پر نہیں ہوا.
انہوں نے کہا کہ جب بڑے بڑے سانحات ہوئے تو میں وہاں گیا اور میں نے ان کا خوف دیکھا، جب یہ مچھ کا واقعہ ہوا جہاں 11 ہزارہ برادری کے مزدوروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، انہوں نے کہا کہ یہ اس سازش کا حصہ ہے جس کا میں نے گزشتہ مارچ میں کابینہ کو بتایا تھا اور عوامی بیانات دیے تھے کہ بھارت پوری طرح پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے اور ایک جگہ ہے فرقہ وارانہ فسادات، جہاں بھارت کا منصوبہ ہے کہ شیعہ، سنی علما کو قتل کرنا.
تاہم انہوں نے کہا کہ میں ملک کی خفیہ ایجنسی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ 4 بڑے دہشت گردی کے واقعات ہمارے اداروں کی وجہ سے نہیں ہوئے لیکن اس کے باوجود کراچی میں ایک ہائی پروفائل سنی عالم کا قتل کیا گیا، جس پر بڑی مشکل سے ہم نے آگ بجھائی جس پر فرقہ وارانہ تقسیم ہونے والی تھی. انہوں نے کہا کہ مچھ میں جو ہوا ہے، ہمیں پہلے سے اندازہ تو تھا، اس واقعے کے بعد میں نے سب سے پہلے وزیر داخلہ کو بھیجا، جنہوں نے بات کی اور اس کے بعد 2 وفاقی وزرا کو وہاں بھیجا یہ بتانے کے لیے کہ یہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے.
انہوں نے کہاکہ ان لواحقین کے گھروں میں کمانے والوں کو مار دیا گیا، میں نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ہم ان کا پوری طرح خیال رکھیں گے، انہوں نے ہم سے جو بھی مطالبات کیے ہم نے تمام مان لیے تاہم ان کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم آئیں گے تو ہم لاشوں کو دفنائیں گے لیکن میں نے انہیں پیغام پہنچایا ہے کہ جب آپ کے تمام مطالبات مان لیے ہیں تو یہ مطالبہ کرنا کہ جب تک وزیراعظم آئیں گے نہیں ہم تدفین نہیں کریں گے، مناسب نہیں.
عمران خان نے کہا کہ کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے ورنہ ہر کوئی بلیک میل کرے گا، سب سے پہلے ڈاکوﺅں کا ٹولہ کہے گا کہ ہمارے سارے کرپشن کے کیسز معاف کرو نہیں تو ہم حکومت گرادیں گے، یہ بھی اڑھائی سال سے بلیک میلنگ چل رہی ہے. انہوں نے کہا کہ میں نے کہا ہے کہ جیسے ہی تدفین کریں گے میں لواحقین سے ملوں گا، میں آج پھر کہہ رہا کہ اگر آپ آج تدفین کرتے ہیں تو میں آج کوئٹہ جاتا ہوں اور لواحقین سے ملتا ہوں، لہٰذا یہ واضح ہونا چاہیے کہ آپ کے سارے مطالبات مان لیے ہیں لیکن یہ شرط لگانا کہ وزیراعظم آئیں گے تو تدفین ہوگی مناسب نہیں ہے.
علاوہ ازیں انہوں نے دیگر موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں آئی ٹی میں انقلاب آرہا ہے، جو تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جبکہ کووڈ 19 کے دوران بھی ترقی کرنے والی آئی ٹی کمپنیاں تھیں انہوں نے کہا ہمیں بہت پہلے اپنے آئی ٹی کے شعبے کو اس طرح کی مراعات دینی چاہیے تھیں، کوشش ہے کہ جو بھی پہلے رکاوٹیں تھیں انہیں دور کریں تاکہ ہمارا آئی ٹی سیکٹر نہ صرف آگے جائے بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں.
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آئی ٹی کی برآمدات اتنی ہوں کہ غیرملکی زرمبادلہ بڑھے، ہم اپنی آئی ٹی کی برآمدات سے اس ملک کی کرنسی کو محفوظ کرسکتے ہیں واضح رہے کہ 3 جنوری کو بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے مچھ میں مسلح افراد نے بندوق کے زور پر کمرے میں سونے والے 11 کان کنوں کو بے دردی سے قتل کردیا تھا. اس واقعے سے متعلق سامنے آنے والی معلومات سے پتا لگا تھا کہ ان مسلح افراد نے اہل تشیع ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ان 11 کوئلہ کان کنوں کے آنکھوں پر پٹی باندھی، ان کے ہاتھوں کو باندھا جس کے بعد انہیں قتل کیا گیا مذکورہ واقعے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی.
اس واقعے کے بعد وزیراعظم عمران خان سمیت مختلف سیاسی شخصیات نے اظہار مذمت کیا تھا جبکہ عمران خان نے ایف سی کو واقعے میں ملوث افراد کو انصاف میں کٹہرے میں لانے کا حکم دیا تھا تاہم اس واقعے کے فوری بعد سے ہرازہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر اپنے پیاروں کی میتیں رکھ کر احتجاج شروع کردیا تھا جو ابھی تک جاری ہے اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ جب تک وزیراعظم نہیں آتے وہ اپنے پیاروں کی تدفین نہیں کریں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں