shehbaz shirf 116

منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد

لاہورہائی کورتٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کر دی جس کے بعد نیب نے شہباز شریف کوحراست میں لے لیا ہے. قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کو کمرہ عدالت سے حراست میں لے کر روانہ ہو گئی ہے لاہور ہائی کورٹ میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران مسلم لیگ (ن )کے صدر شہباز شریف نے کہا تھا کہ اڑھائی سو سال لگ جائیں گے مگر میرے خلاف کرپشن ثابت نہیں کی جا سکے گی.
ان کا کہنا تھا کہ دن رات محنت کر کے پنجاب کے عوام کی خدمت کی، بے نامی اثاثوں کا الزام بے بنیاد ہے شہباز شریف نے کہا کہ پروکیورمنٹ میں پاکستان کے ایک ہزار ارب روپے بچائے، اورنج لائن میں ہم نے بولی لگوائی حالانکہ قانون اجازت نہیں دیتا تھا. قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ میرا ضمیر مجھے مجبور کر رہا تھا اس لیے ہم نے اورنج لائن میں 600 ملین روپے بچائے ان کا کہنا تھا کہ مجھ پر الزام لگایا گیا ہے کہ میرے بے نامی اثاثے ہیں، اختیارات سے تجاوز کیا ہوتا تو مجھے پھر اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے تھی میرے بچوں اور عزیزوں کی شوگر ملز کو نقصان ہوا.
انہوں نے کہا کہ میرے والد نے 18 ماہ میں 6 فیکٹریاں لگائیں شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل مکمل کر لیے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی. قبل ازیں صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف عبوری ضمانت میں توسیع کیلئے لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے گزشتہ سماعت پر شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں پیر تک توسیع کی گئی تھی قومی احتساب بیورو(نیب) لاہور کی جانب سے شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کی استدعا کی گئی ہے نیب کے مطابق شہباز شریف نے متعدد بے نامی اکاﺅنٹس سے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی.
نیب نے موقف اختیار کیا ہے کہ شہباز شریف کی درخواست ضمانت ناقابل سماعت ہے لہٰذا اسے مسترد کیا جائے قبل ازیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی ضمانت میں 24 ستمبر تک توسیع کی گئی تھی. لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی تھی شہباز شریف بھی اس موقع پر عدالت میں موجود تھے تاہم عدالت نے سماعت کو جمعرات تک ملتوی کرتے ہوئے ضمانت میں بھی 24 ستمبر تک توسیع کر دی.
ضمانت منسوخ ہونے کی صورت میں شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے نیب کی ٹیم بھی عدالت میں موجود تھی جو ضمانت منسوخ ہونے پر شہباز شریف کو گرفتار کرتی شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر سی سی پی او لاہور بھی ہائی کورٹ میں موجود تھے سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے لاہور ہائی کورٹ میں سیکیورٹی کا جائزہ بھی لیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں